ضیاءالحق ڈ کٹیٹر تھے: حمیدگل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل نے کہا کہ ضیاءالحق مطلق العنان آمر تھے تاہم ان کی پالیسیوں کی وجہ سے وسط ایشیائی مسلمان ریاستوں کو آزادی ملی۔ جنرل ضیاء لحق کی سترہیوں برسی پر بی بی سی بات کرتے ہوئے ضیاء دور کے اہم فوجی افسر نے کہا کہ پاکستان میں اقتدار پرفوج کے قبضے کے بعد اس کے سربراہ کے پاس واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوتا کیونکہ وہ اقتدار پر قبضہ کرنے کا جرم کر چکا ہوتا ہے۔ جنرل حمید گل نے ضیاءالحق کے دور کوخارجہ پالیسی کے حوالے سے کامیاب قرار دیا اور کہا کہ افغانستان اور وسط ایشیائی کی ریاستوں کی سوویت یونین سے آزادی کا سہرا جنرل ضیاء کے سر ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ دوسرے فوجی آمروں کی طرح جنرل ضیاء نے بھی سیاسی مسائل کو عسکری طاقت سے حل کرنے کی کوشش کی جو کہ غلط تھا۔ جنرل ضیاء اور جنرل پرویز مشرف کے ادوار کا تقابلہ کرتے ہوئے جنرل حمیدگل نے مشرف دور کو ناکام قرار دیا کیونکہ اُن کے خیال میں جنرل ضیاء کے برعکس جنرل مشرف کی پالیسی کی وجہ سے پاکستان نے اپنے ارد گرد دشمنوں کا اضافہ کر لیا ہے۔ تاہم جنرل حمید گل نے تسلیم کیا کہ نہ تو جنرل ضیاء سیاسی جماعتوں اور ان سے منسلک سیاست کو پسند کرتے تھے اور نہ ہی جنرل مشرف۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا جنرل ضیاء طالبان کے حامی تھے، جنرل حمید گل نے کہا کہ امریکہ طالبان کا مداح ضرور تھا تاہم ان کے بارے میں جنرل ضیاء کے رجحانات کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ طالبان ان کی موت کے بعد منظر عام پر آئے ہیں۔ جنرل ضیاء کے سیاسی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد اقتدار پر قبضے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں جنرل حمید گل نے فوج کا دفاع کیا اور سیاستدانوں میں کردار کے فقدان کو ملک کی بدحالی کا ذمہ دار قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سیاستدان مضبوط کردار کا مظاہرہ کریں تو فوج بغیر کسی آئینی گنجائش کے اقتدار نہیں سنبھال سکتی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||