عمارت کے حادثے کا مقدمہ درج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور پولیس نے اقبال ٹاؤن سبزی منڈی کی عمارت کی گرنے اور انتیس افراد کی ہلاکت کے واقعہ پر تعزیرات پاکستان کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اس مقدمہ میں عمارت میں گیس کا کاروبار کرنے والے دو افراد کو نامزد کیا گیا ہے جن میں سے ایک حادثے میں جاں بحق ہوچکا ہے جبکہ دوسرا مفرور ہے۔ پیر اور منگل کی درمیانی شب ہونے والے اس حادثے کی وجہ پولیس نے ان گیس سلنڈروں کو قرار دیا ہے جن کا اس عمارت کے ایک حصے میں گودام تھا اور جہاں روزانہ بڑے سلنڈروں سے چھوٹے سلنڈروں میں گیس منتقل کی جاتی تھی۔ نواں کوٹ سرکل پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ مقدمہ مقامی تھانے کے ایس ایچ اور کے استغاثے پر درج کیا گیا ہے اس مقدمے میں نامزد ایک ملزم فیصل حادثے کے وقت سلنڈروں کے گودام میں موجود تھا اور وہ ملبے تلے دب کر دم توڑ گیا جبکہ دوسرا ملزم غلام محمد کھوکھر حادثے کے بعد سے غائب ہے۔ پولیس کے مطابق وہ گیس سلنڈروں کے اس کاروبار کا مالک تھا۔ دریں اثناء جائے وقوعہ سے ملبے سےزخمیوں اور لاشیں نکالنے کا کام روک دیا گیا ہے امدادی کارروائی کرنے والے عملے کے اراکین کا کہنا ہے کہ اب ملبے تلے کوئی نہیں ہے لیکن ملبے ہٹانے کا کام جاری ہے۔ کل امدادی عملے نے انتیس لاشوں کے علاوہ دس کے قریب افراد کو زندہ نکال لیا تھا جو اگرچہ زخمی ہیں لیکن ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ اس حادثے میں ہلاک ہونے والے بیشتر افراد کا تعلق پنجاب کے مختلف شہروں سے تھاان کی لاشیں ان کے آبائی شہروں کو بھجوا دی گئی ہیں۔ لاہور کے ایک ہی خاندان کے سات افراد کو ڈیفنس کے علاقے سج پال میں دفن کیا گیا۔ آٹھ افراد کی میتیں دیپالپور،چھ کی سانگلہ ہل،اور باقی کی چھانگا مانگا اور چونیاں بھجوا دی گئیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||