حملے کا جواز نہیں تھا: قصوری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ معصوم کشمیریوں پر حملہ تمام انسانی تہذیبوں کے خلاف ہے اور کوئی بھی مذہب ایسے حملوں کی اجازت نہیں دیتا۔ پاکستانی وزیر خارجہ خورشید قصوری نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ کشمیریوں پر اس حملے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کشمیریوں کا صرف یہ قصور تھا کہ وہ اپنے بچھڑے ہوئے کشمیری رشتہ داروں سے ملنے کے لئے جا رہے تھے جو تین چار عشروں سے ایک دوسرے سے بچھڑے ہوئے تھے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان جلیل عباس جیلانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکومت اس حملے میں زخمی ہونے والے کشمیریوں کے ساتھ ہے۔ اس سوال پر کہ کیا اس حملے سے بس سروس پر کوئی اثر پڑے گا ترجمان نے کہا کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے بس سروس کی تیاریں مکمل ہیں۔ تاہم انھوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے حکام آپس میں رابطہ کریں گے اور اس بارے میں لائحہ عمل طے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بس سروس کے مسافروں کی حفاظت کے ٹھوس اقدامات کئے گئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||