BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 January, 2005, 09:50 GMT 14:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گاڑیوں کی گرانی

News image
اسلام آباد کے پالیسی ساز پر الزام ہے کہ وہ اب تک کاریں بنانے والوں کی حمایت کرتے آئے ہیں۔
پاکستان میں پینتیس فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اور معاشی خود کشیاں عام ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کی خرید و فروخت اتنی بڑھ گئی ہے کہ مارکیٹ میں نئی گاڑیوں کی قلت ہے اور گاڑیاں اپنی کمپنیوں کی مقرر کردہ قیمت سے ستر ہزار روپے سے لے کر سوا لاکھ روپے زیادہ قیمت پر فروخت کی جارہی ہیں جسے عرف عام میں ’آن‘ کہا جاتا ہے۔

بکنگ کروانے سے نئی گاڑی مقررہ پوری قیمت ادا کرنے کے پانچ چھ ماہ بعد خریدنے والے کو ملتی ہے اور بعض اوقات اس سے بھی زیادہ دیر میں۔ گویا ایک شخص چھ ماہ تک اپنے چار سے چھ لاکھ روپے بلا منافع گاڑیاں بنانے والوں اور ان کے ڈیلروں کے پاس جمع رکھواتا ہے یعنی بیس ہزار روپے سے پچاس ہزار روپے تک کا وہ منافع جو اسے یہ پیسے بنک میں جمع رکھنے سے مل سکتا ہے گاڑیاوں بیچنے والے لے اُڑتے ہیں۔

لاہور میں سوزوکی کار کے ڈیلرز کا کہنا ہے کار پلانٹ کسی وجہ سے بند ہے اور گاڑیاں میسر نہیں۔ شہر میں سوزوکی آلٹو ایک ہزار سی سی (اے سی اور سی این جی) کی صرف دو تین گاڑیاں مختلف شو رومز میں کھڑی ہیں جو ان کی مقررہ قیمت (پانچ لاکھ روپے) سے ستر ہزار روپے زیادہ قیمت پر میسر ہیں۔

اس سے برا حال سوزوکی مہران (آٹھ سو سی سی) کا ہے جس کی مارکیٹ میں قیمت اس کی اصل قیمت سے نوے ہزار روپے زیادہ مانگی جارہی ہے۔ سوزوکی کی ایک ہزار سی سی کلٹس پر ایک لاکھ بیس ہزار روپے آن ہے جبکہ عام طور پر زیادہ پسند نہ کی جانے والی بلینو پر نوے ہزار روپے تک آن ہے۔

چھوٹی گاڑیوں میں ٹیوٹا والوں کی کورے (ساڑھے آٹھ سو سی سی) خاصی مقبول گاڑی ہے۔ پانچ لاکھ انیس ہزار روپے مقررہ قیمت والی کورے کی قیمت مارکٹ میں اس وقت پانچ لاکھ دس ہزار روپے ہے یعنی اکینوے ہزار روپے بلیک مارکٹ پرائس۔ اسی طرح پانچ لاکھ انسٹھ ہزار روپے والی کورے کی قیمت پانچ لاکھ ساٹھ ہزار روپے ہے۔ کورے گاڑیاں بھی گنتی کی چند ایک مارکٹ میں موجود ہیں ارو خریدنے والے کے پاس رنگ چننے کا کوئی اختیار نہیں۔ کورے کے ڈیلرز سہارا کا یہ بھی کہنا ہے کہ آٹومیٹک ٹرانسمیشن والی کورے کے علاوہ کورے کے دورسے دو ماڈلز کی بنکنگ بھی اس وقت بند ہے۔

ہنڈائی کی سانترو (ایک ہزار سی سی) جو حالیہ دنوں میں خاصی مقبول ہوئی ہے وہ اپنی مقررہ قیمت (تقریبا پانچ لاکھ ساٹھ ہزار روپے) سے تقریبا نوے ۃزار روپے زیادہ قیمت پر دستیاب ہے۔

پاکستان میں جب بھی گاڑیوں کی درآمد پر ڈیوٹی کم کرنے یا ری کنڈیشنڈ گاڑیوں کی درآمد کی بات ہوتی ہے تو ایک گاڑیاں بنانے والے اور ان کے ڈیلرز اس کی مخالفت کرتے ہیں کہ اس سے ملکی صنعت کو نقصان ہوگا۔ یہ لوگ میڈیا میں خبریں شائع کراتے ہیں کہ پاکستان میں کاروں کی قیمت کم ہے اور انٹرویوز میں دعوے کرتے ہیں کہ گاڑیوں کی پیداوار پڑھ گئی ہے اور اب گاہکوں کو زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑتا۔

اسلام آباد کے پالیسی ساز پر الزام ہے کہ وہ اب تک کاریں بنانے والوں کی حمایت کرتے آئے ہیں۔ تاہم مارکیٹ میں اصل صورتحال کیا ہے اس کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب کوئی عام شہری کار خریدنے جاتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد