روٹی پر پھر ہڑتال کا خدشہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں ضلعی حکومت اور نانبائیوں کے درمیان روٹی کی قیمت اور وزن کے تعین کے لئے ہونے والے مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں جس سے ایک مرتبہ پھر نانبائیوں کی ہڑتال کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ ضلعی حکومت کے اہلکاروں اور نانبائی ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کے درمیان روٹی کا قضیہ حل کرنے کی کوشش پیر کو اس وقت ناکام ہوگئی جب نانبائی ایسوسی ایشن کے صدر خائستہ گل نے سرکاری فیصلہ مسترد کرتے ہوئے غصے میں اپنی قمیض پھاڑ دی۔ ضلعی ناظم اعظم آفریدی کا موقف تھا کہ تین روپے کی روٹی ایک سو پینسٹھ گرام میں فروخت کرنی چاہیے لیکن نان بائیوں کو یہ نرخ منظور نہیں تھا۔ نان بائیوں کا موقف تھا کہ صوبائی حکومت نے انہیں ڈیڑھ سو گرام روٹی تین روپے میں فروخت کرنے کی اجازت دی ہے۔ مذاکرات کی ناکامی کے بعد خائستہ گل نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ بات چیت کی ناکامی کے بعد اپنا تازہ لائحہ عمل جلد سامنے لائیں گے اور اس مرتبہ ضلعی نہیں بلکہ صوبے کی سطح پر ہڑتال کی کال دیں گے۔ گزشتہ سنیچر ضلع پشاور کے چودہ سو سے زائد نان بائیوں کی ہڑتال سے عوام کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||