دریا عبور کرتے ہوئے ڈوب گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر بہاولنگر میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد دریائے ستلج عبور کرتے ہوئے ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔ وہ پیدل دریا عبور کر رہے تھے۔ ڈوبنے والوں میں سے چار افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں۔ ڈوبنے والوں میں ایک خاتون نوراں مائی کی چار بیٹیاں ایک بیٹا اور ایک نواسی شامل ہیں۔ نوراں بی بی اپنے خاوند کے ساتھ دریا کے کنارے پر رہتے تھے کہ ایک دِن وہ اس ناراض ہو کر اپنے بچوں کے ہمراہ دریا پار اپنے والدین کے گھر کے لیے روانہ ہوئی اور وہ سب ڈوب گئے۔ مقامی لوگ عام طور پر دریا کو پیدل ہی عبور کرتے ہیں۔ نوراں بی بی، اس کی شادی شدہ بیٹی زلیخا اور پندرہ سالہ نذیراں نے تین سے سات سال کی عمر کے تین بچوں کو گود میں اٹھا لیا تھا۔ ایک مقامی اخبار کے نامہ نگار شفیق خان نے بتایا کہ دریا میں بارشوں کے باعث دریا کا بہاؤ تیز تھا جس کا اس کے خاندان کو اندازہ نہیں تھا اور وہ دریا کی لہروں کی نذر ہوگئے ۔ مقامی لوگ صرف نوراں کو ہی زندہ بچاسکے ہیں۔ بہاولپور کے ضلعی ناظم علی اکبر وینس نے بتایا کہ چار لاشیں دریا سے نکال لی گئی ہیں اور دیگر لاشوں کی تلاش کا کام ابھی جاری ہے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||