شوکت عزیز پر قاتلانہ حملہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدرِ پاکستان جنرل پرویز مشرف نے نامزد وزیراعظم شوکت عزیز پر ہونیوالے قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کے حملے انہیں دہشت گردی مخالف جنگ سے نہیں ہٹا سکیں گے۔ دارالحکومت اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار ہارون رشید کے مطابق جنرل پرویز مشرف نے یہ بھی کہا کہ اس قسم کے حملے اسلام اور اس کی ہدایات کے خلاف ہیں۔ حملے سے بچ نکلنے کے بعد شوکت عزیز نے اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے نے انہیں ملک اور اسلام کی خدمت کرنے کے عزم کو مزید تقویت دی ہے۔ شوکت عزیز نے اس حملے کو انتہائی افسوس ناک قرار دیا اور ہلاک ہونیوالوں کے اہل خانہ سے بھی تعزیت کی۔ صدر پاکستان جنرل مشرف نے بھی ہلاک ہونیوالوں کے رشتہ داروں سے افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل مشاہد حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا جس میں خود کش حملہ آوور کے علاوہ شوکت عزیز کا ڈرائیور جان بحق ہو گئے ہیں۔ مشاہد حسین نے کہا کہ حملے کے تھوڑی دیر بعد انہوں نے شوکت عزیز سے فون پر بات کی۔ پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصور نے حملے کی شدید مذمت کی اور اسے اسلامی اور انسانی اقدار کے خلاف قرار دیا۔ وزیرخزانہ شوکت عزیز پر ہونیوالے حملے میں ان کے ڈرائیور سمیر چھ افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے۔ شوکت عزیز اٹک میں اپنی انتخابی مہم کے دوران فتح جنگ کے قریب ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کر کے باہر آ رہے تھے کہ جلسہ گاہ سے تھوڑے فاصلے پر ان کی گاڑی کے قریب ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ فتح جنگ پولیس تھانے کے محرر کے مطابق یہ حملہ سوا سات بجے کے قریب جافر گاؤں میں اس جگہ ہوا جہاں انہوں نے انتخابی جلسہ سے خطاب کرنا تھا۔ اٹک کے ضلعی ناظم میجر (ر) طاہر صادق ان کے ہمراہ تھے۔ شوکت عزیر اٹک کے حلقے سے اٹھارہ اگست کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ شوکت عزیز وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نامزد ہونے کے بعد قومی اسمبلی کے دو حلقوں سے ضمنی انتخاب لڑے رہے ہیں۔ میر ظفر اللہ خان جمالی کے وزیر اعظم کے عہدے سے استعفی دینے کے بعد جنرل مشرف کی حکومت نے شوکت عزیر کو آئیندہ وزیر اعظم بنانے کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان کے آئین کے مطابق وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے لیے قومی اسمبلی کا رکن ہونا ضروری ہے۔ اسی آئینی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے شوکت عزیر کو صوبہ سندھ کی تھر پارکر کی نشست اور صوبہ پنجاب کی اٹک کی نشست سے حکمران جماعت کے امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑوایا جا رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||