ڈاکٹر اکمل سرکاری تحویل میں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں گزشتہ پانچ روز سے لاپتہ ڈاکٹر اکمل کے والد حافظ وحیداللہ خان نے الزام لگایا ہے کہ ان کے بیٹے سرکاری حراست میں ہیں اور تاوان طلب کروا کے اس معاملے کو اغوا برائے تاوان کا رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ بات انہوں نے پیر کو کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس میں کہی۔ ڈاکٹر اکمل وحید کا اب تک کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ وہ اپنے بھائی ڈاکٹر ارشد وحید اور ڈرائیور سمیت جمعرات سے لاپتہ ہیں۔ ان کی گاڑی اگلے روز کیماڑی کے علاقے میں جناح برج کے پاس سے ملی تھی۔ ڈاکٹر اکمل کے والد کا کہنا ہے کہ لاپتہ ہونے کے چند گھنٹوں کے بعد ان کے گھر پر نامعلوم شخص کا ٹیلی فون آیا تھا جس نے ایک کروڑ روپے تاوان طلب کیا تھا جس کے بعد ان کے اغوا کی ایف آئی آر جیکسن تھانے میں درج کروا دی گئی۔ وحید اللہ خان نے مزید کہا کہ اگر ان کے بیٹوں پر کوئی الزام ہے تو ملک میں مروجہ قانون کے مطابق عدالت میں مقدمہ چلایا جائے اور الزام ثابت کیا جائے۔ اس موقع پر وحید اللہ خان نے بتایا کہ ان کے بیٹوں نے کبھی کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا ہے اور وہ افغانستان، ایران، بوسنیا اور دیگر ممالک میں امدادی کاموں کے حوالے سے جاتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ سب کچھ ہمیشہ حکومت کے علم میں رہا ہے اور ان کے بیٹوں نے کبھی کوئی کام حکومت سے چھپ کر نہیں کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 13 جون کو بی بی سی کی صبح کی نشریات میں اور بی بی سی کی ویب سائٹ، بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے کہا کہ ڈاکٹر اکمل گرفتار کر لیے گئے ہیں، جس پر گھر والوں کو حیرانی ہوئی کیونکہ ایسا نہیں تھا اور یہی وجہ تھی کہ ڈاکٹر اکمل معمول کے مطابق قومی ادارہ برائے امراض قلب میں اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام باتیں اس طرف اشارہ کرتی ہیں کہ انہیں سرکاری حکام نے بلاجواز حبس بیجا میں رکھا ہوا ہے کیونکہ اس سے پہلے بھی کئی ڈاکٹروں کے ساتھ ایسا ہو چکا ہے۔ ڈاکٹر اکمل وحید کے گھر پر چند ماہ پہلے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چھاپہ مارا تھا تاہم وہ گھر پر موجود نہ ہونے کی وجہ سے گرفتار نہیں ہو سکے تھے۔ ان کے گھر والوں کے مطابق اس چھاپے کے بعد بھی وہ قومی ادارہ برائے امراض قلب میں مسلسل اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کراچی کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر شیر شاہ نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال سے ملک کے ڈاکٹروں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر اکمل اور ان کے بھائی بہت اچھی شہرت رکھتے ہیں اور ہمیشہ دوسروں کے کام آتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر شاہ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ دونوں ڈاکٹروں کو کسی سرکاری ایجنسی نے اپنی حراست میں لیا ہوا ہے جو ایک غیر قانونی قدم ہے۔ پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے رہنما ڈاکٹر مصباح العزیز نے کہا کہ ڈاکٹروں کے نمائندوں نے حکومتی حلقوں سے رابطے کیے ہیں مگر اب تک کوئی حوصلہ افزا جواب نہیں ملا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||