مشرف کی واجپئی سے بات چیت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی وزارت خارجہ اور نئی ہندوستانی حکومت کے درمیان شملہ معاہدے پر ہونے والے بیان بازی کے پس منظر میں صدر پرویز مشرف نے ہندوستان کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔ بھارتی خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق پندرہ منٹ تک جاری رہنے والی اس بات چیت میں صدر مشرف نے مسٹر واجپئی پر زور دیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان جاری امن مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ خبر رساں ادارے نے پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد کے حوالے سے کہا ہے کہ صدر مشرف نے دونوں ملکوں کے درمیان تصفیہ طلب معاملات کے حل کے لئے مسٹر واجپئی کی کوششوں کی تعریف کی۔ مسٹر واجپئی کے قریبی ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ امن مذاکرات کے سلسلے کو آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات کی ضرورت پر بھی زور دیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی بحالی کے لئے کیے جانے والے اقدامات کے سلسلے کو آگے بڑھایا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||