BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 May, 2004, 10:53 GMT 15:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مبینہ زیادتی کے ملزمان کا ریمانڈ
 کبیر والا واقعہ کی ’متاثرین‘
کبیر والا واقعہ کی ’متاثرین‘
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع خانیوال کے گاؤں ڈِنگا نائچ میں بدلے کے طور پر دو خواتین کے ساتھ مبینہ زیادتی کرنے والے ملزم اور اس کے پانچ ساتھیوں کو جمعہ کے روز عدالت میں پیش کیا گیا۔

کبیر والہ شہر کے ایک مجسٹریٹ نے تین ملزمان کو تین دن کے ریمانڈ کے لئے پولیس کی تحویل میں رکھنے کا حکم دیا جبکہ دیگر تین کو جوڈیشیل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

جن ملزمان کو ریمانڈ کے لئے پولیس کی تحویل میں دیا گیا ہے ان میں مبینہ طور پر زیادتی کرنے والوں میں بڑا ملزم بھی شامل ہے۔

کمرہ عدالت سے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوۓ ملزم غفّار نے کہا کے ممتاز اور مُدثن سے زیادتی والی بات درُست نہیں ـ ملزم کا دعویٰ تھا کہ اُس نے کمرے میں لے جاکر لڑکیوں کی صرف مار پیٹ کی ـ

سرپنچوں کا کہنا تھا کہ پنچایت میں زیادتی کے بدلے زیادتی کا فیصلہ نہیں کیا گیا بلکہ غفّار لڑکیوں کو زبردستی کمرے میں لے گیا تھا ـ

تفصیلات کے مطابق ایک زمیندار محمد غفار نے اس انکشاف کے بعد کے اس کی بیٹی کے ایک لڑکے ریاض کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں، ریاض کے خاندان سے بدلہ لیا۔

پولیس کے مطابق 30 اپریل کو تقریباً 50 افراد پر مبنی گاؤں کی پنچائت اکھٹی ہوئی۔ غفار کے خاندان کے زیادہ تر افراد نے بدلے کا مطالبہ کیا اور بعد میں اس کی لاؤڈ سپیکروں پر تشہیر کی گئی۔

اس سوال کے جواب پر کہ خاندان کے سربراہ کو کیوں نہیں گرفتار کیا گیا پولیس حکام نے بتایا کہ متاثرہ خاندان کے افراد اس کے خلاف مقدمہ دائر نہیں کروا رہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد