’زبانوں پر تالا نہیں لگا سکتے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر اعظم میر ظفراللہ جمالی نے حکومت کی تبدیلی، اسمبلیوں کی تحلیل اور قبل از وقت انتخابات کے امکانات اور اس ضمن میں جاری افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمینٹ مدت پوری کرے گی۔ مشرق بعید کے نو روزہ دؤرے سے وطن واپس پہنچنے پر ہوائی اڈے پر اخباری کانفرنس میں مختلف سوالات کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں پاکستان مسلم لیگ یا حکومت کی اتحادی جماعتوں سے کوئی تکلیف نہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کی جماعت کے ایک رہنما نے ان پر عدم اعتماد کرتے ہوئے انہیں ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے تو وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ کسی کی زبان پر تالا نہیں لگا سکتے، ان میں برداشت ہے اور ویسے بھی وہ ایسی تنقید کو اہمیت نہیں دیتے۔ واضع رہے کہ مسلم لیگی رہنما کبیر علی واسطی نے وزیر اعظم جمالی کی حکومت کو ناکام قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ وزیر اعظم کا دعوہ تھا کہ پاکستان کو جمہوریت اور پارلیمینٹ کی ضرورت ہے اور یہ نظام چل پڑا ہے لہٰذا آئندہ بھی چلے گا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے صدر چوھری شجاعت حسین کی اس وضاحت سے انہیں حوصلہ ملا ہے جس میں شجاعت حسین نے پارلیمینٹ کے اندر سے حکومت کی تبدیلی کو خارج از امکان قرار دیا تھا۔ لیکن وزیراعظم نے بتایا کہ وہ پارٹی صدر سے ملیں گے اور ان سے ایسے بیانات کے متعلق معلوم کریں گے۔ لیکن ان کے بقول بعض لوگ ہوائی فائرنگ کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کے رہنما شہباز شریف کی وطن واپسی کے متعلق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ ان کا اندازہ ہے کہ شہباز شریف پاکستان نہیں آئیں گے، لیکن اگر عدالت عالیہ کسی کو راستہ دیں تو وہ عدالتوں کے حکم کا احترام کریں گے۔ مگر ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کی واپسی بھولی ہوئی بات ہے ۔ وزیر اعظم جمالی کاایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا کے ممالک کی تعاون کی تنظیم سارک کے چیئرمین کے بطور ان کی کوشش ہوگی کہ سارک اور ایشیا کی دوسری علاقائی تعاون کی تنظیم ’آسیان، کے درمیاں تعاون میں اضافہ ہو۔ لائوس، کمبوڈیا، تھائی لینڈ، ہانگ کانگ اور چین کے نو روزہ دؤرے کو کامیاب قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے لاوس اور کمبوڈیا میں پاکستان کے سفارتی مشن قائم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||