پوست کی فصل کی تلفی پر احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے سرحدی علاقے قلعہ عبداللہ میں لوگوں نے پوست کی فصل کی تلفی کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔ کوئٹہ چمن شاہراہ کئی گھنٹے تک بند رکھی اور تین گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ انسداد منشیات کے ادارہ نے بلوچستان میں پوست کی فصل تلف کرنے کے لیے کارروائی شروع کر رکھی ہے اور فروری سے اب تک کوئی ساڑھے چار ہزار ایکڑ پر کاشت پوست کی فصل تلف کی ہے۔ آج بدھ کی صبح گلستان کے علاقے سے تعلق رکھنے والے مسلح افراد نے کوئٹہ، چمن شاہراہ بند کر دی اور زبردست احتجاج کیا ہے۔ اس موقع پر انھوں نے تین گاڑیوں کو آگ لگا دی جن میں سے ایک گاڑی اقوام متحدہ کےایک ادارے کی بھی تھی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گزشتہ ایک ہفتے سے قلعہ عبداللہ کے علاقے میں کارروائی شروع کر رکھی ہے اور کوئی ساڑھے پانچ سو ایکڑ پر تیار فصل تلف کی ہے۔ انسداد منشیات کے ادارے کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر لیاقت علی طور نے کہا ہے کہ لوگوں نے چار دیواری کے اندر پوست کی فصل کاشت کر رکھی ہے۔ اس آپریشن میں اے این ایف کے علاوہ فرنٹیئر کور اور لیویز کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ مقامی افراد کاکہنا ہے کہ مظاہرین کو چار دیواری کے اندر جا کر فصل کی تلفی پر غصہ تھا جہاں کچھ مقامات پر دیواریں گر ائی گئی ہیں۔ فرنٹیئر کور کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مقامی لوگ پوست کی فصل کی تلفی کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے اور بعد از دوپہر انھوں نے احتجاج ختم کر کے سڑ ک ٹریفک کے لیے کھول دی تھی۔ بلوچستان میں اس سال لگ بھگ آٹھ ہزار ایکڑ پر پوست کی فصل کاشت کی گئی ہے ان میں بعض نئے علاقے بھی شامل ہیں جن میں وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کے آبائی علاقے نصیر آباد اور جعفر آباد نمایاں ہیں۔ بریگیڈیئر لیاقت علی طور نے بتایا ہے کہ قلعہ عبداللہ میں تقریباً پندرہ سو سے دو ہزار ایکڑ پر پوست کاشت کی گئی ہے۔ موجودہ کارروائی میں تقریباً پچاس مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||