پاکستان میں صوبائی حکومتوں نے ماہ محرم کے پیش نظر ساڑھے چار سو سے زائد مذہبی رہنماؤں پر یہ پابندی عائد کی ہے کہ وہ اپنے صوبے یا ضلعے سے دوسرے صوبوں کا رخ نہ کریں۔ صوبہ سندھ کے علاوہ دیگر صوبوں میں جاری کردہ سرکاری بیانات میں کہا گیا ہے کہ پابندی چار سو پچاس مذہبی رہنماؤں پر اس لئے عائد کی گئی ہے تاکہ وہ ایسی تقاریر نہ کریں جن سے امن عامہ اور عوامی سلامتی کو ممکنہ لاحق ہو۔ حکومت سندھ نے یہ پابندی تین سو اکتالیس مذہبی رہنماؤں پر عائد کی ہے جبکہ صوبہ پنجاب نے اٹھاون ایسے رہنماؤں کے جھنگ میں داخلے کی ممانعت کر دی ہے۔ صوبہ سرحد نے تینتیس علماء کے ہری پور میں داخلے پر پابندی عائد کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ ان علماء سے کہتے آئے ہیں وہ اپنے ضلعوں تک ہی محدود رہیں۔ |