BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 February, 2004, 04:24 GMT 09:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسے ٹائیگر کہا گیا

نیازی
ان کی یہ تصویر ان کی زندگی کی ہر تصویر پر چھائی رہی اور کسی نے ان کی یہ بات نہیں سنی کہ وہ فوجی مشنری کا ایک ادنیٰ کردار تھے

مغربی پاکستان کی علیحدگی اور آزاد بنگلہ دیش کے قیام کے موقع پر بھارتی جنرل کے سامنے ہتھیار ڈالنے والے پاکستانی لیفٹنٹ جنرل(ر)امیر عبداللہ خاں نیازی اتوار کی شب لاہور کے سی ایم ایچ میں مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئے۔

ان کی عمر نواسی برس تھی اور وہ ریٹائرمنٹ کی زندگی بسر کر رہے تھے۔

ان کے داماد رؤف خاں نے بتایا کہ وہ ذیا بیطس اور عارضہ دل میں مبتلا تھے۔

اتوار کی شب نو بجے اچانک ان کی طبعیت خراب ہوئی انہیں فوری طور پر فوجی ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔

عیدالاضحیٰ کے روز انہیں کیولری گراؤنڈ لاہور کے فوجی قبرستان میں سپرد خاک کیا جائےگا۔

وہ سنءانیس سوبتیس میں برٹش آرمی میں بطور سپاہی بھرتی ہوئے تھے اور انیس سو بیالیس میں انہیں کنگز کمشن دیدیا گیا تھا۔ قیام پاکستان سے قبل انہوں نے برٹش آرمی کے لیے متعدد ایسے کارنامے انجام دیے جس میں انہیں بہادری کے ایوارڈ دیے گئے۔ ان ایوارڈ میں ملٹری کراس کا ایوارڈ بھی شامل ہے۔

جاپان میں برٹش آرمی کی جانب سے بہادری دکھانے پر انہیں ٹائیگر نیازی کا خطاب دیا گیا۔ان کی بہادری کے یہ سلسلے انیس سو پیسنٹھ کی جنگ میں بھی جاری رہی لیکن انیس سو اکہتر کی جنگ میں پاکستانی فوج کے اس ٹائیگر نے بھارتی جنرل کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج اور بنگالی عوام کے ہاتھوں پاکستانی فوج کی شکست اور جنرل نیازی کا بھارتی جنرل ارروڑہ کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا واقہ ایک ایسا عمل تھا جو ہر اس محب وطن پاکستانی کے دل پر زخم کی طرح نقش ہوگیا جس نے یہ واقعہ دیکھا۔

نیازی
پاکستانی فوجی ہتھیار ڈال رہے ہیں

پاکستانیوں کا ایک حلقہ اسے پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیتا ہے۔اس کے بعد وہ اور پاکستان کے دیگر نوے ہزار فوجیوں کی طرح جنگی قیدی بن کر بھارت کی حراست میں چلے گئے۔

حمودالرحمان کمیشن کی جوغیر حتمی رپورٹ منطر عا م پر آئی ہے اس میں بھی انہیں اس شکست کے اسباب میں انہیں کافی بڑا ذمہ دار قرار دیا گیا۔

جنرل نیازی آخر وقت تک اپنی پوزیشن کا دفاع کرتے رہے اور موت کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے محض چند ہفتہ قبل انہوں نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا تھا کہ ’وہ فوج کے سسٹم کا ایک چھوٹا سا حصہ تھے اس لیے انہوں نے ہتھیار ڈالنے کے احکامات پر عملدرآمد کیا حالانکہ ان کا ذاتی خیال یہ تھا کہ وہ مزید لڑ سکتے تھے اور بھارتی فوج کو ایک لمبے عرصے تک الجھائے رکھ سکتے تھے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد