عدالت نے تحریکِ انصاف کو رائیونڈ مارچ کی اجازت دے دی

عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ احتجاج کے شرکا پرامن طور پر اکٹھے ہوں اور احتجاج کے بعد پرامن طور پر منتشر ہو جائیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنعدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ احتجاج کے شرکا پرامن طور پر اکٹھے ہوں اور احتجاج کے بعد پرامن طور پر منتشر ہو جائیں۔
    • مصنف, بیورو رپورٹ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی فل بینچ نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو رائیونڈ میں وزیر اعظم نواز شریف کی رہائش گاہ کے قریب احتجاج کی اجازت دے دی ہے۔

تحریکِ انصاف 30 ستمبر کو رائیونڈ میں احتجاج کا ارادہ رکھتی ہے اور اس کے خلاف ایک مقامی شہری عاطف ستار نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

٭ <documentLink href="" document-type=""> رائیونڈ مارچ: لاہور ہائیکورٹ میں تین رکنی بینچ تشکیل</documentLink>

٭ <documentLink href="" document-type=""> ’پاناما میں چھپائے اربوں روپے کا حساب لیں گے‘</documentLink>

قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس شاہد حمید ڈار، جسٹس انوارالحق اور جسٹس قاسم خان پر مشتمل تین رکنی بینچ نے اس درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو جمعرات کو سنایا گیا۔

فیصلے میں عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو پابند کیا ہے کہ وہ احتجاج کے لیے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کرے اور احتجاج میں شرکت کرنے والے کارکنوں کو ہراساں یا گرفتار نہ کیا جائے۔

عدالت نے تحریکِ انصاف کے رہنما اور درخواست گزار ولید اقبال کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ احتجاج کے بارے میں جو معاہدہ ہوا ہے اس کی مکمل پاسداری کریں۔

 عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو پابند کیا ہے کہ وہ احتجاج کے لیے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کرے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو پابند کیا ہے کہ وہ احتجاج کے لیے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کرے

عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ احتجاج کے شرکا پرامن طور پر اکٹھے ہوں اور احتجاج کے بعد پرامن طور پر منتشر ہو جائیں۔

فل بینچ نے انتظامیہ اور منتظمین سے یہ بھی کہا کہ شرانگیزی پھیلانے ولے عناصر پر کڑی نظر رکھی جائے اور شرپسندی یا اشتعال انگیزی کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

فل بینچ نے قرار دیا کہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرے

کارروائی کے دوران فل بینچ نے درخواست گزار کے وکلا کو باور کروایا کہ سیاسی لڑائیاں سیاسی میدان میں لڑی جانی چاہییں اور عدالتوں کو اپنا کام کرنے دیا جائے۔

خیال رہے کہ لاہور کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام نے تحریک انصاف کے احتجاج کے بارے میں جو سکیورٹی پلان تیار کیا ہے اس کے تحت سات ہزار سے زائد پولیس اہلکار احتجاج کی سکیورٹی پر مامور کیے گئے ہیں۔