ایم ایف این پاکستان کے لیے بے معنی

پاکستان اور انڈیا کے درمیان تجارت میں 80 فیصد چیزیں انڈیا سے آتی ہیں اور صرف بیس فیصد پاکستان سے جاتی ہیں: امین ہاشوانی
،تصویر کا کیپشنپاکستان اور انڈیا کے درمیان تجارت میں 80 فیصد چیزیں انڈیا سے آتی ہیں اور صرف بیس فیصد پاکستان سے جاتی ہیں: امین ہاشوانی
    • مصنف, عبداللہ فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے اُوڑی سیکٹر میں واقع فوجی اڈے پر حملے کے تناظر میں انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدے پرغور کے بعد اب پاکستان کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ واپس لیے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

انڈیا کے ذرائع ابلاغ کے مطابق انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی جمعرات کو ایک اعلی سطح کے اجلاس کی صدارت کریں گے جس میں پاکستان کو بیس سال قبل دیا جانے والا پسندیدہ ترین ملک کا درجہ واپس لینے پر غور کیا جائے گا۔

پاکستان میں تاجر برادری کا خیال ہے کہ اِس سے پاکستان کو زیادہ نقصان نہیں ہوگا اور انتہائی ضروری اشیا کی تجارت پھر بھی جاری رہے گی جبکہ ماہرین سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں ایک لابی ہے جو بھارت کو ایم ایف این کا درجہ دینے کے خلاف ہے۔

پاکستان انڈیا سی ای اوز بزنس فورم کے بانی سربراہ امین ہاشوانی سمجھتے ہیں کہ اگر انڈیا پاکستان کو بیس سال قبل دیا جانے والا پسندیدہ ترین ملک کا درجہ واپس لے لیتا ہے تو اِس سے پاکستان کو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔

’یہ ایم ایف این اگر آپ دیکھیں تو انڈیا نے دیا تو ہے لیکن ہمارے لیے یہ بے معنی ہے۔ کیونکہ انڈیا میں جو نرخ نامے کے علاوہ جو رکاوٹیں ہیں وہ اتنی زیادہ ہیں کہ ایم ایف این اسٹیٹس کے با وجود معمول کی تجارت نہیں ہو پا رہی۔‘

امین ہاشوانی کا کہنا تھا کہ ’اگر پاکستان اور انڈیا کے درمیان تجارت دیکھیں تو اسی فیصد چیزیں انڈیا سے آتی ہیں اور صرف بیس فیصد پاکستان سے جاتی ہیں۔‘

اگر تجارت معمول پر آجائے تو پاکستان پانچ سے چھ سالوں کے دوران پانچ ارب ڈالرز کی تجارت انڈیا کے ساتھ بڑھا سکتا ہے: خرم دستگیر خان

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناگر تجارت معمول پر آجائے تو پاکستان پانچ سے چھ سالوں کے دوران پانچ ارب ڈالرز کی تجارت انڈیا کے ساتھ بڑھا سکتا ہے: خرم دستگیر خان

پاکستان نے حالانکہ انڈیا کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ نہیں دیا لیکن سوائے بارہ سو اشیا کے باقی تمام اشیا کی تجارت انڈیا کے ساتھ کی جا رہی ہے۔

اُدھر سارک ممالک کے چیمبر آف کامرس کے نائب صدر افتخار علی ملک نے انڈیا کے سارک سمٹ میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ انڈیا میں پاکستانی تاجروں کو ایم ایف این کے باوجود کئی پابندیوں کا سامنا ہے۔

اُنہوں نے کہا ’اگر میں بہت بڑا تاجر ہوں اور اگر سرحد کے اُس پار میرے آنے جانے پر پابندی ہو، میری ادائیگیوں ،اشیا کے نام اور تشہیر پر پابندی ہو تو پھر ایم ایف این سے کیا فرق پڑتا ہے؟‘

پاکستان کے وزیرِ تجارت کے خرم دستگیر خان کا کہناہے کہ پاکستان موجودہ حالات میں انڈیا کے ساتھ پاکستان کے مذاکرات نہیں ہورہے ہیں لیکن اگر تجارت معمول پر آجائے تو پاکستان پانچ سے چھ سالوں کے دوران پانچ ارب ڈالرز کی تجارت انڈیا کے ساتھ بڑھا سکتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’سنہ 2012 میں اُس وقت کی حکومت نے 85 فیصد اشیا کی تجارت کی اجازت دی تھی جو اب بھی جاری ہے اور کراچی اور واہگہ کے ذریعے اب بھی تجارت ہو رہی ہے۔ لائن آف کنڑول سے بھی تجارت ہو رہی ہے۔ تو یہ ایک اچھی بات ہے کہ تعلقات میں جو تناؤ ہے اُس کے باوجود ہندوستان اور پاکستان دونوں طرف تجارت بند کرنے کی آوازیں نہیں بلند ہوئیں۔‘

پاکستان اور انڈیا کے باہمی تعلقات میں خرابی دونوں ممالک کی تجارت میں بھی زوال کا سبب بن رہی ہے۔اور اب انڈیا کا پاکستان سے پسندیدہ ترین ملک کا درجہ واپس لینے پر غور اِس میں مزید شدت پیدا کر سکتا ہے۔