’سندھ طاس معاہدے پر انڈیا کا دباؤ قبول نہیں‘

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ بھارت کے خلاف ہونے والی جنگوں اور کارگل کے واقعے کے بعد بھی سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کیا گیا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنسرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ بھارت کے خلاف ہونے والی جنگوں اور کارگل کے واقعے کے بعد بھی سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کیا گیا
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے وزیراعظم کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا کہ اگر انڈیا نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی کوشش کی تو پاکستان اس پر بھر پور احتجاج کرے گا اور اس معاملے کو عالمی بینک اور بین الااقوامی عدالت میں لے کر جایا جائے گا۔

منگل کو قومی اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ انڈیا کے خلاف ہونے والی جنگوں اور کارگل کے واقعے کے بعد بھی سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کیا گیا۔

یاد رہے کہ انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے سندھ طاس معاہدے کے بارے میں پیر کے روز آبی وسائل کے اعلٰی اہلکاروں سے ملاقات میں پانی کی تقسیم پر پاکستان کے ساتھ معاہدے پر غور کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

انڈین اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے اس اجلاس کے بعد کہا تھا کہ ’خون اور پانی ساتھ ساتھ نہیں بہہ سکتے۔‘

سرتاج عزیز نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ عالمی بینک سندھ طاس معاہدے میں نہ صرف سہولت کار تھا بلکہ اس معاہدے کا ضامن بھی تھا اور انڈیا یکطرفہ طور پر اس معاملے پر فیصلہ نہیں کر سکتا۔

اُنھوں نے کہا کہ انڈیا سندھ طاس معاہدے کو اُٹھا کر پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ پاکستان کسی بھی قسم کا انڈین دباؤ قبول نہیں کرے گا۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت انڈیا مختص دریاؤں کا پانی استعمال تو کر سکتا ہے لیکن ان کا بہاؤ روک نہیں سکتا۔

یاد رہے کہ 1960 میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت انڈیا کو مشرفی دریاؤں یعنی ستلج، راوی اور بیاس جبکہ پاکستان کو مغربی دریاؤں جہلم، چناب اور سندھ کو استعمال کرنے کے حقوق دیے گئے تھے۔

دنیا بھر میں پانی کے ذخائر تقسیم کرنے کے معاہدوں میں سندھ طاس معاہدے کو ایک بہترین مثال تصور کیا جاتا رہا ہے۔

انڈیا اور پاکستان کے درمیان متعدد بار سیاسی کشیدگی کے باوجود بھی کسی ملک نے اس معاہدے کو منسوخ نہیں کیا۔

تاہم اب ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے میں موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے جدت لانے کی ضرورت ہے۔