پنجاب کے سرحدی علاقے میں کومبنگ آپریشن، چار شدت پسند ہلاک

،تصویر کا ذریعہAP
پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ پنجاب اور بلوچستان کے درمیان سرحدی علاقے میں کومبنگ آپریشن کے دوران چار شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے یہ آپریشن گیاندری کے علاقے میں سنیچر کو کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران ایک سیکورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوا۔
بیان کے مطابق کومبنگ آپریشن کے دوران متعدد دہشت گردوں اور فراریوں کو اسلحہ اور گولہ بارود سمیت گرفتار بھی کیا گیا۔
جمعے کو ہی حکومت پنجاب نے صوبے کے ’مخصوص علاقوں‘ میں دہشت گرد اور کالعدم تنظیموں کےخلاف آپریشن کےلیے رینجرز کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
پنجاب کے وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ کے بقول کوئٹہ میں حالیہ دہشت گردی کے حالیے واقعات کے بعد یہ محسوس کیا گیا کہ پنجاب میں دہشت گردوں، کالعدم تنظیموں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف برسر پیکار انسداد دہشتگردی کی فورس کی مدد کے لیے رینجرز کو تعینات کیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ کہ پنجاب میں رینجرز کو ’مخصوص مدت‘ اور ’مخصوص علاقوں‘ کےلیے بلایا جا رہا ہے۔
چند روز قبل پاکستانی فوج نے صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد میں کومبنگ آپریشن کے دوران چھ شدت پسندوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فوج کے ترجمان نےگرفتار کیے جانے والے افراد کے بارے میں زیادہ تفصیل فراہم نہیں کی تھیں تاہم بتایا تھا کہ ان میں سے دو ’ہائی ویلیو‘ شدت پسند تھے اور ان کا تعلق القاعدہ سےہے۔
فوج کے ترجمان جنرل عاصم باجوہ کے بقول خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ملک بھر میں کومبنگ آپریشنز کیے جا رہے ہیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ ماہ صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے سول ہسپتال میں خودکش حملے کے بعد ملک بھر میں شدت پسندوں کے خلاف کومبنگ آپریشنز شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
اب تک اس قسم کی کارروائیوں میں ملک کے مختلف علاقوں سے درجنوں مبینہ شدت پسندوں کو حراست میں لیا گیا ہے اور بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے







