آوارہ کتوں کو بانجھ بنانے کی استدعا

درخواست گذاروں کا کہنا ہے کہ فریقین کی جانب سے شہر میں جس طرح آوارہ کتوں کے لیے وحشیانہ طریقۂ کار اپنایا گیا ہے اس سے انھیں صدمہ پہنچاہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشندرخواست گذاروں کا کہنا ہے کہ فریقین کی جانب سے شہر میں جس طرح آوارہ کتوں کے لیے وحشیانہ طریقۂ کار اپنایا گیا ہے اس سے انھیں صدمہ پہنچاہے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

سندھ ہائی کورٹ نے کراچی میٹرو پولیٹن، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اور کینٹونمنٹ بورڈ کو شہر میں آوارہ کتوں کو زہر دینے کے خلاف دائر درخواست پر نوٹس جاری کردیے ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کی سربراہی میں ڈویژن بینچ میں درخواست گذار نے موقف اختیار کیا ہے ان آوارہ کتوں کو زہر دینے کے بجائے متبادل طریقے استعمال کرتے ہوئے انھیں بانجھ کیا جائے تاکہ ان کی آبادی میں اضافہ نہ ہو۔

یہ درخواست صحافی کمال صدیقی اور ایڈوکیٹ اسد افتخار نے دائر کی ہے جس میں صوبائی چیف سیکریٹری، کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اور کینٹومنٹ بورڈ کو آوارہ کتوں کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

درخواست گذاروں کا کہنا ہے کہ فریقین کی جانب سے شہر میں جس طرح آوارہ کتوں کے لیے وحشیانہ طریقۂ کار اپنایا گیا ہے اس سے انھیں صدمہ پہنچاہے۔

عدالت کو بتایا گیا ہے کہ صرف ضلع کراچی جنوبی میں اگست میں 800 کتوں کو ہلاک کیا گیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنعدالت کو بتایا گیا ہے کہ صرف ضلع کراچی جنوبی میں اگست میں 800 کتوں کو ہلاک کیا گیا

ایڈووکیٹ اسد افتخار نے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس ایکٹ میں آوارہ جانوروں کے لیے واضح ہدایت موجود ہیں تاہم فریقین نے آوارہ اور خطرناک جانوروں کے لیے کوئی قوانین نہیں بنائے۔

درخواست گذار کے مطابق فریقین نے بغیر کسی قانونی تحفظ کے یہ وحشی عمل کیا ہے، لوکل باڈیز ایکٹ کے مطابق آوارہ جانوروں کو رکھنے کے لیے سینٹر بنائے جائیں گے تاہم اس پر ابھی تک عمل نہیں کیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ آوارہ کتوں کی ہلاکت اخلاقی طور پر بھی سوالیہ ہے خاص طور پر جب اس کے لیے متبادل طریقۂ کار موجود ہیں۔

عدالت کو بتایا گیا ہے کہ صرف ضلع کراچی جنوبی میں اگست میں 800 کتوں کو ہلاک کیا گیا جس سے جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کو تکلیف پہنچی۔

پاکستان اینیمل ویلفیئر سوسائیٹی نے ایک پٹیش کا اجرا کیا جس میں 17,000 لوگوں نے دستخط کر کے آوارہ کتوں کی ہلاکت کا سلسلہ روکنے کا مطالبہ کیا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنپاکستان اینیمل ویلفیئر سوسائیٹی نے ایک پٹیش کا اجرا کیا جس میں 17,000 لوگوں نے دستخط کر کے آوارہ کتوں کی ہلاکت کا سلسلہ روکنے کا مطالبہ کیا

پاکستان اینیمل ویلفیئر سوسائٹی نے ایک پٹیش کا اجرا کیا جس میں 17,000 لوگوں نے دستخط کر کے آوارہ کتوں کی ہلاکت کا سلسلہ روکنے کا مطالبہ کیا۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ انھوں نے مفادِ عامہ میں یہ پٹیشن دائر کی کیونکہ فریقین کا عمل غیر منطقی اور ناجائز ہے۔ اس درخواست میں یہ بھی گذارش کی گئی ہے کہ کراچی میٹروپولیٹن، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اور کینٹونمنٹ بورڈ کو آوارہ کتوں کی ہلاکت سے روک جائے۔

عدالت سے یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ کہ ان آوارہ کتوں کی آبادی کی روک تھام کے لیے ویکیسنیشن اور بانجھ بنانے کے طریقے اپنائیں جائے جس پر عدالت نے درخواست پر تمام فریقین کو نوٹس جاری کردیے۔

کراچی میونسپل اتھارٹی کے ترجمان نے اگست میں اس مہم کے دوران خبر رساں ادارے رویئٹرز کو بتایا تھا کہ شہریوں کی جانب سے بہت زیادہ شکایات تھیں کہ آوارہ کتے بچوں بوڑھوں اور خواتین کو کاٹ لیتے ہیں اور یہ شہریوں کے لیے بہت بڑا خطرہ ہیں ان شکایات کے پیش نظر آوارہ کتوں کی تلفی کے لیے اقدامات کرنے پڑے۔