’انڈیا بلوچستان میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے‘، پاکستان کا مودی کو جواب

پاکستان نے کہا ہے کہ انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے پاکستانی صوبے بلوچستان کے بارے میں بیان یہ ثابت کرتا ہے کہ انڈیا بلوچستان میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے۔

خیال رہے کہ پیر کے روز انڈیا کے یوم آزادی کے موقع پر کی جانے والی اپنی تقریر میں وزیراعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور گلگت کے عوام نے آواز اٹھانے پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے گنُ گائے جاتے ہیں اور وہاں کی حکومت دہشت گردی کے نظریے سے متاثر ہے۔

گذشتہ روز ہی پاکستانی وزیراعظم محمد نواز شریف نے ملک کے جشنِ آزادی کو کشمیریوں کی آزادی کےنام کیا تھا۔ تاہم حکومتِ پاکستان نے آج ہی بھارت کو کشمیر پر مذاکرات کی باضابطہ طور پر پیشکشبھی کی ہے۔

پاکستان کے جلا وطن بلوچ رہنما براہمداغ بگٹی نے فیس بک پر جاری کیے گئے پیغام میں بلوچوں کے لیے آواز اُٹھانے پر انڈین عوام اور حکومت کا شکریہ ادا کیا تھا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے جلا وطن بلوچ رہنما براہمداغ بگٹی نے فیس بک پر جاری کیے گئے پیغام میں بلوچوں کے لیے آواز اُٹھانے پر انڈین عوام اور حکومت کا شکریہ ادا کیا تھا

نریندر مودی کی تقریر کے بعد ردِعمل کے طور پر پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں وزیرِ اعظم نواز شریف کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا کہ ’نریندر مودی کی جانب سےبلوچستان کا حوالہ جوکہ پاکستان کا جزوِ لازم ہے، صرف پاکستان کے اس دعوے کو ثابت کرتا ہے کہ انڈیا اپنی مرکزی انٹیلیجنس ایجنسی را کے ذریعے بلوچستان میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے۔‘

سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ اس بات کی تصدیق رواں برس مارچ میں ’را‘ کے فعال نیول افسر کلبھوشن یادیو نے اپنے اعتراف جرم میں بھی کی ہے۔

کشمیر کے المیے سے توجہ ہٹانے کی کوشش

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنانڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں

پاکستانی دفترِ خارجہ کے بیان میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر پر بھی بات کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ انڈین وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے یومِ جمہوریہ پر کی جانے والی تقریر دنیا کی توجہ کشمیر کے المیے سے ہٹانے کی کوشش ہے جو کہ گذشتہ پانچ ہفتوں سے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں کھل کر سامنے آرہی ہے۔

’70 معصوم کشمیریوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے جبکہ چھ ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ 37 روز سے وہاں مسلسل کرفیو نافذ ہے اور میڈیا کی جانب سے مکمل بلیک آؤٹ ہے۔‘

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ ان واقعات کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کشمیری عوام اپنے حقِ خود ارادیت کے لیے تحریک چلا رہے ہیں جس کا وعدہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے کیا تھا۔

نریندر مودی کے بیان کے ردِعمل کے اختتام میں سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ انڈیا کو اس بات کو تسلیم کرنا ہوگا کہ کشمیر کا مسئلہ گولیوں سے حل نہیں ہوسکتا۔اس کے سیاسی حل کی ضرورت ہے جس کے لیے پاکستان اور انڈیا کے درمیان سنجیدہ مذاکرات کی ضرورت ہے۔