پی آئی اے اور پاکستان ایئرویز، کہانی کیا ہے؟

    • مصنف, طاہر عمران
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

حکومت نے گذشتہ دنوں جہاں پی آئی اے کو پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کیا وہیں پاکستان ایئرویز کی بنیاد بھی رکھی گئی مگر پاکستان ایئرویز کے پیچھے اصل کہانی کیا ہے؟

پی آئی اے کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ ایئرلائن کو فعال بنانے کے لیے ایئر لائن کو پروازوں اور اس سے متعلقہ اور غیر متعلقہ شعبوں کے حساب سے پی آئی اے اور پاکستان ایئرویز میں تقسیم کیا جائے گا۔

* <link type="page"><caption> پی آئی اے کا پریمیئر سروس شروع کرنے کا اعلان</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/07/160725_pia_premier_tim.shtml" platform="highweb"/></link>

* <link type="page"><caption> ’پی آئی اے کا عملہ ’پہلے ہی زیادہ نیا کہاں سے لائیں؟‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/08/160801_pia_chairman_tim.shtml" platform="highweb"/></link>

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لیمیٹڈ کے چیئرمین اعظم سہگل نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں بتائی جس میں انھوں نے کہا کہ پی آئی اے کا بنیادی کام طیارے اڑانا ہے نہ کہ غیر متعلقہ کاروبار کرنا۔

اعظم سہگل نے بتایا کہ ’پی آئی اے میں ہم بہت سارا ہوابازی سے غیر متعلقہ کام کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ہماری ایک کمپنی ہے سپیڈ ایکس جو کہ ایک کوریئر سروس کمپنی ہے تو پی آئی اے کا ایک کوریئر سروس کمپنی چلانے کا کوئی مقصد نہیں ہے۔‘

اعظم سہگل کا کہنا ہے کہ پی آئی اے بہت سے ایسے کام کر رہی ہے جن کا ایک ایئرلائن سے براہِ راست کوئی واسطہ نہیں ہے۔
،تصویر کا کیپشناعظم سہگل کا کہنا ہے کہ پی آئی اے بہت سے ایسے کام کر رہی ہے جن کا ایک ایئرلائن سے براہِ راست کوئی واسطہ نہیں ہے۔

اسی طرح انھوں نے بتایا کہ ’ہماری بعض پروازوں میں کھانا ہمارے اپنے کچن فراہم کرتے ہیں تو ہم کچن چلا رہے ہیں اور کھانا فراہم کرنے کا کاروبار بھی کر رہے ہیں۔ جو کہ غیر متعلقہ کام ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے بیرونِ ملک اور پاکستان میں کچھ ہوٹل ہیں جن کی ملکیت پی آئی اے کی ایک ذیلی کمپنی کے پاس ہے۔‘

چیئرمین پی آئی اے نے کہا کہ ہم نے غور کرنے کے بعد یہ سوچا کہ ’پی آئی اے کے غیر متعلقہ کاروبار کو متعلقہ کاروبار سے علیحدہ کیا جائے ہمارا بنیادی کام طیارے اڑانا اور پرواز کرنا ہے مگر ہم درحقیقت بہت ساری دوسری سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔‘

انھوں نے کہا پاکستان ایئرویز اور پی آئی اے دو کمپنیوں ’کے پیچھے مرکزی خیال یہ ہے کہ تمام متعلقہ کاروبار کو ایک کمپنی میں رہیں گے اور غیر متعلقہ کاروبار جن کا پروازوں اور طیارے اڑانے سے کوئی واسطہ نہیں دوسری کمپنی میں شامل کیے جائیں گے۔‘

اعظم سہگل نے بتایا کہ ’ابھی یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ متعقلہ اور غیر متعلقہ کاروبار کس کس کمپنی میں جائیں گے۔‘

نئی پریمئیر ایئرلائن کے حوالے سے انھوں نے وضاحت کی کہ ’پریمئیر سروس کوئی علیحدہ فضائی کمپنی نہیں بلکہ پی آئی اے ہی میں ایک علیحدہ ڈویژن ہو گا۔‘