وزیراعظم کی واپسی،’عملہ زیادہ،اب خصوصی طیارہ جائے گا‘

وزیراعظم نواز شریف اکثر پی آئی اے کے طیارے اپنے غیر ملکی دوروں کے لیے استعمال کرتے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنوزیراعظم نواز شریف اکثر پی آئی اے کے طیارے اپنے غیر ملکی دوروں کے لیے استعمال کرتے ہیں
    • مصنف, طاہر عمران
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستان انٹرنیشل ایئرلائنز کے مطابق پی آئی اے کا ایک خصوصی طیارہ وزیراعظم اور ان کے عملے کو لندن سے اسلام آباد منتقل کرنے کے لیے بھیجا جائے گا۔

ترجمان پی آئی اے نے ایک بیان میں بتایا کہ وزیراعظم چونکہ لندن میں اپنے عملے کے ساتھ امور حکومت دیکھ رہے تھے جس کے لیے ایک کیمپ آفس لندن میں قائم کیا گیا تھا جس کے لیے دستاویزات اور عملہ لندن میں موجود تھا۔

چونکہ پی آئی اے کی معمول کی پروازوں میں اتنے سامان اور مسافروں کو لانے کی گنجائش نہیں تھی اس لیے پی آئی اے نے اس مقصد کے لیے ایک خصوصی طیارہ لندن بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔

پی آئی اے کے ایک سینئیر اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ پی آئی اے نے اپنی معمول کی پروازوں میں وی آئی پیز کے لیے خصوصی سہولیات کی فراہمی کے بارے میں پالیسی تبدیل کی ہے اور اب مسافروں کو جنہوں نے بکنگ کی ہوئی ہے ترجیح دی جاتی ہے۔

وزیراعظم کو لندن سے لانے کے لیے پی آئی اے کا خصوصی طیارہ لندن جائے گا
،تصویر کا کیپشنوزیراعظم کو لندن سے لانے کے لیے پی آئی اے کا خصوصی طیارہ لندن جائے گا

اسی مقصد کے لیے وزیراعظم ہاؤس کو صورتحال سے آگاہ کیا گیا جس پر خصوصی طیارہ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

یاد رہے کہ لندن پرواز کے لیے پی آئی اے کے بیڑے میں دستیاب طیاروں میں بوئنگ 777 طیارے ہیں اور وزیراعظم کو لندن سے پی آئی اے کا 200_777 لانگ رینج طیارہ جائے گا جو لندن تک براہ راست پرواز کر سکتا ہے۔

ایوی ایشن کی مختلف ویب سائٹس کے مطابق اس طیارے کی فی گھنٹہ پرواز پر اوسطً سات ٹن کے قریب ایندھن استعمال ہوتا ہے۔

لندن کی یک طرفہ پرواز پر کم از کم پچاس ٹن ایندھن اور پرواز کے عمومی اخراجات اٹھتےہیں۔

اہلکار نے یہ بھی بتایا کہ اس قسم کی تمام پروازوں اور وزیراعظم کے دورہ جات کے لیے طیارے اور پرواز کے تمام اخراجات حکومت ادا کرتی ہے نہ کہ پی آئی اے۔

اس سلسلے میں وزیراعظم کے ترجمان مصدق ملک کو متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔