بلوچستان: تشدد کے واقعات میں پولیس اہلکار سمیت دو ہلاک

جون کے مہینے میں کوئٹہ اور اس سے متصل ضلع مستونگ میں پولیس اہلکاروں پر یہ چوتھا حملہ تھا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنجون کے مہینے میں کوئٹہ اور اس سے متصل ضلع مستونگ میں پولیس اہلکاروں پر یہ چوتھا حملہ تھا
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور ضلع کیچ میں تشدد کے دو مختلف واقعات میں ایک پولیس اہلکار سمیت دو افراد ہلاک ہوگئے۔

کوئٹہ شہر میں پولیس اہلکار کو افغان روڈ کے علاقے میں نشانہ بنایا گیا۔

گوالمنڈی پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ٹیلی کمیونیکیشن سے تعلق رکھنے والا پولیس کا ایک ہیڈ کانسٹیبل اس علاقے میں ایک مسجد کے باہر سادہ کپڑوں میں موجود تھا۔

نامعلوم مسلح افراد نے پولیس اہلکار کو وہاں سر میں گولی ماری جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہلاک ہوا۔ پولیس اہلکار پر حملے کے محرکات معلوم نہیں ہوسکے۔

جون کے مہینے میں کوئٹہ اور اس سے متصل ضلع مستونگ میں پولیس اہلکاروں پر یہ چوتھا حملہ تھا۔ ان حملوں میں تین پولیس اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔

ادھر ایران سے متصل ضلع کیچ سے ایک شخص کی تشددزدہ لاش برآمد ہوئی۔ کیچ انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت اکبر کے نام سے ہوئی ہے۔ اکبر کا تعلق ضلع کیچ کے علاقے دشت سے تھا۔

انتظامیہ کے ذرائع نے بتایا کہ اکبر کو نامعلوم افراد نے پانچ روز قبل اغوا کیا تھا اور گولیاں مارکر ہلاک کرنے کے بعد اس کی لاش دشت کے علاقے میں پھینک دی تھی۔