ملا منصور کی موت، پاکستان کا مبینہ پرانا رد عمل

،تصویر کا ذریعہAP

    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

افغان طالبان کے رہنما ملا محمد اختر منصور کی بلوچستان میں مبینہ آمد، مبینہ موجودگی اور مبینہ ہلاکت پر پاکستانی ریاست کا وہی ردعمل ہے جو ایسی صورت حال میں ماضی میں رہا ہے۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کہتے ہیں مبینہ ملا اختر منصور کو پاکستان لا کر کیوں مارا گیا؟ وجہ مبینہ طور پر پاکستان کو بار بار جان بوجھ کر شرمسار کرنا دکھائی دیتی ہے۔ یہ صیہونی ہے یا بیرونی لیکن ہے یقیناً ایک بہت بڑی مبینہ سازش۔

ریاست کی مبینہ آسانی کے لیے میں نے ان کے لیے ایک مبینہ بیان تیار کیا ہے جس سے امید ہے صد فیصد افاقہ ہوگا اور تمام مبینہ سے شروع ہونے والے تمام سوالات، مبینہ تنقید اور مبینہ تشویش دم توڑ دے گی۔

’حکومت پاکستان نے ایف آئی اے کے امیگریشن اہلکاروں کو معمول کی کارروائی کرتے ہوئے معطل کرنے، نادرا کو الٹا لٹکانے اور امریکہ پر کڑی تنقید کرنے کے بعد اس فیصلے پر پہنچی ہے کہ ڈرون نے جس شخص کو مبینہ ملا اختر منصور کے نام پر ہلاک کیا ہے وہ ولی محمد نامی ایک غریب چرواہے شاہ محمد کا بیٹا تھا۔‘

قلعہ عبداللہ کے اس رہائشی خاندان کا واحد قصور یہ تھا کہ ولی محمد کی شکل و صورت ملا اختر منصور سے مبینہ طور پر ملتی تھی۔ یہ چرواہا ایران اپنے مال مویشی کے لیے گھاس خریدنے گیا تھا۔ حکومت پاکستان مبینہ بےگناہ شہریوں پر ڈرون حملوں کی سختی سے مذمت کرتی ہے اور مبینہ علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔

لیکن شاید حکومت کو قلعہ عبداللہ کا مبینہ شاہ محمد ہاتھ نہیں آ رہا ورنہ امریکہ اور باقی دنیا کی خام خیالی کی تردید کوئی زیادہ مشکل نہیں تھی۔

اس سیدھی سادی کہانی سے نہ تو حکومت کو جعلی پاسپورٹ اور نہ شناختی کارڈ کی وضاحت کرنی پڑے گی اور نہ یہ بتانے کی ضرورت ہوگی کہ نادرا میں کون ولی محمد کا حامی تھا، کس کی مجال کہ انھیں تمام دستاویزات فراہم کیں۔ کیا اس غریب مبینہ چرواہے نے پاسپورٹ کی فیس بھی ادا کی تھی یا کسی اور نے ادا کی۔؟

پھر تفتان پر جو امیگریشن حکام ہیں کیا ان سے پوچھ گچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔

ولی محمد جیسے سینکڑوں پاکستانی سرحد پار آتے جاتے ہیں۔ پاسپورٹ تو پاسپورٹ ہوتا ہے اصل بات تو اس میں درج مبینہ تفصیلات ہیں جو اسے اصل یا نقل بناتی ہیں۔ اگر سرحد پر ریکارڈ میں انٹری ہوئی ہوگی تو ایران کو بھی جواب مل جائے گا کہ تفتان سے صرف ایران سے آنے والے ہی پاکستان میں داخل ہوسکتے ہیں مبینہ طور پر افریقہ سے آئے نہیں۔

کیونکہ وہ ایک مبینہ طور پر عام چرواہا ثابت ہو جائے گا لہذا میڈیا کی تمام تر دلچسپی بھی جلد غارت ہو جائے گی اور چونکہ امریکی ڈرون آج بھی پاکستان کے طول و عرض میں مبینہ طور پر ایک بھرپور فضائیہ کی موجودگی میں آذادنہ طور پر گھوم پھر رہے ہیں تو اس جانب بھی کسی کا خیال نہیں جا پائے گا۔

مبینہ ولی محمد کی موت تو جس طرح ہوئی سو ہوئی لیکن ان کی تدفین زیادہ پراسرار ہوگئی ہے۔ ان کی لاش لے جانے کے لیے کوئی مبینہ رفیق ہی آسکتا ہے رشتہ دار شاید نہیں۔