حامد میر پر حملہ، ’ناقص تفتیش، مجرموں تک پہنچنے میں ناکامی‘

حامد میر نے کہا کہ اس رپورٹ نے ان کی جانب سے کراچی میں جے آئی ٹی کے بائیکاٹ کا ذکر تک نہیں کیا
،تصویر کا کیپشنحامد میر نے کہا کہ اس رپورٹ نے ان کی جانب سے کراچی میں جے آئی ٹی کے بائیکاٹ کا ذکر تک نہیں کیا
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے معروف صحافی اور اینکر حامد میر پر کراچی میں اپریل 2014 میں ہونے والے حملے کی تحقیقات کے لیے قائم عدالتی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناقص تفتیش کی وجہ سے اصل مجرموں تک پہنچنے میں ناکامی ہوئی ہے۔

بی بی سی اردو کو موصول ہونے والی اس کمیشن کی 41 صفحات پر مبنی رپورٹ اب تک سرکاری سطح پر جاری نہیں کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل یہ کمیشن حامد میر پر 19 اپریل 2014 میں حملے کے دو دن بعد قائم کیا گیا تھا۔ جسٹس انور ظہیر جمالی اس کمیشن کی سربراہی کر رہے تھے جو کہ اب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بن چکے ہیں۔ ان کے علاوہ اس کمیشن میں جسٹس اعجاز افضل خان اور جسٹس اقبال حمیدالرحمان شامل تھے۔

اس رپورٹ پر ردعمل کے لیے وزیر اطلاعات پرویز رشید سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ہوئی تاہم حامد میر نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پرویز رشید اور چند دیگر حکومتی اہلکاروں سے انھوں نے اس پر بات کرنے کی کوشش کی لیکن انھوں نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ ’مجھ پر حملے کی دوسری برسی سے محض دو روز قبل اس کا لیک ہونا میرے پرانے زخموں کو ہرا کرنے کے مترادف ہے۔‘

کمیشن کی رپورٹ کے مطابق یہ حکومت کو 15 دسمبر 2015 کے حوالے کر دی گئی تھی۔ لیکن ماضی میں اس طرز کی تحقیقاتی رپورٹ حکومت کی جانب سے کم ہی عام کی گئی ہے۔ حکومت نے اس واقعے کی تحقیقات میں مدد کرنے پر دس لاکھ روپے کے انعام کا بھی اعلان کیا تھا لیکن بظاہر اس کا بھی کوئی فائد نہیں ہوا تھا۔

رپورٹ میں پاکستانی میڈیا میں غلط معلومات کو خبروں کے طور پر پیش کرنے اور بریکنگ نیوز کے مسئلے کو سنگین قرار دیا ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنرپورٹ میں پاکستانی میڈیا میں غلط معلومات کو خبروں کے طور پر پیش کرنے اور بریکنگ نیوز کے مسئلے کو سنگین قرار دیا ہے

حامد میر پر حملہ کراچی کے ہوائی اڈے سے اپنے دفتر جاتے ہوئے نامعلوم افراد نے کیا تھا جس میں انھیں کئی گولیاں لگیں لیکن وہ بال بال بچ گئے تھے۔ اس حملے کے نتیجے میں صحافتی تنظیموں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں نے حکومت سے تحقیقات اور ملوث افراد کو سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

کمیشن کا اپنے مشاہدات میں کہنا ہے کہ انہوں نے واقعے کے آغاز سے شواہدی مواد کا بغور جائزہ لیا لیکن انھیں معلوم ہوا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اسے مناسب طریقے سے تحقیقات کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ کمیشن کے مطابق اس واقعے کی ایف آئی آر چار دن بعد درج کی گئی جس کی وجہ سے تفتیش میں تاخیر ہوئی۔ لیکن رپورٹ میں اس ناکامی کا کسسی ایک فرد یا ادارے کو ذمہ دار نہیں ٹھرایا گیا ہے اور نہ ہی کسی کو اس کی وجہ سے سزا کی تجویز دی گئی ہے۔

کمیشن کے مشاہدے کے مطابق جیو فینسنگ ڈیٹا کے جامع جائزے کی ضرورت تھی جو کبھی نہیں کیا گیا۔ ’اگر ایسا کیا جاتا تو یہ تحقیقات کرنے والے اداروں کو یقینا مجرم تک پہنچنے میں مدد دے سکتے تھے۔ یہ ناکامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اہلیت اور عزم کی کمی ظاہر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ قانون نافذ کرنے والے داراوں کے درمیان تعاون اور رابطے کی عدم موجودگی بھی ظاہر کرتا ہے۔ اس لیے یہ غیرمناسب تحفظات کو رد نہیں کیا جاسکتا ہے۔‘

حامد میر نے کہا کہ اس رپورٹ نے ان کی جانب سے کراچی میں جے آئی ٹی کے بائیکاٹ کا ذکر تک نہیں کیا جو انھوں نے آئی ایس آئی کے اس ٹیم کے حصہ ہونے کی وجہ سے کیا تھا لیکن یہ بھی رپورٹ میں شامل نہیں۔

حامد میر کے بھائی عامر میر نے حملے کے فورا بعد آئی ایس آئی پر الزام عائد کیا تھا۔

کمیشن کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ آئی ایس آئی اور آئی ایس پی آر کے افسران نے اپنے حلفیہ بیانات میں اس حملے سے مکمل لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔ ’تاہم میڈیا کے تمام افراد نے اس کی جانب انگلیاں اٹھائیں۔ ہمارے خیال میں ان الزامات کی بنیاد شکوک و شبہات اور کہے سنے پر مبنی تھی لہذا کمیشن کی مدد سے قاصر تھے۔‘

صحافتی تنظیموں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں نے حکومت سے تحقیقات اور ملوث افراد کو سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنصحافتی تنظیموں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں نے حکومت سے تحقیقات اور ملوث افراد کو سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا

رپورٹ میں پاکستانی میڈیا میں غلط معلومات کو خبروں کے طور پر پیش کرنے اور بریکنگ نیوز کے مسئلے کو سنگین قرار دیا ہے۔ ’ناصرف ملک بلکہ ہر سرکاری ادارے کی بدنامی کے لیے ہر حربہ اختیار کیا جاتا ہے۔ ہر بات کو متنازع بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔‘

کمیشن نے ایک اور صحافی سلیم شہزاد کے قتل کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن کی شفارشات کی مکمل تائید کی اور حکومت پر اس بابت مناسب پیش رفت نہ کرنے پر سرزنش بھی کی۔ رپورٹ میں کمیشن نے صحافیوں پر حملوں کی تحقیقات کے لیے خصوصی پراسیکیوٹر کی تقرری کی تجویز پر عمل درآمد پر زور دیا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر ان سفارشات پر عمل درآمد اگر ہوا ہوتا تو اس قسم کے واقعات شاید نہ ہوتے۔