بلوچستان: مبینہ افغان انٹیلیجنس اہلکار کی گرفتاری کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سرکاری حکام نے افغان انٹیلیجنس کے ایک مبینہ اہلکار کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کی جانب سے میڈیا کوجو معلومات فراہم کی گئی ہیں ان کے مطابق مبینہ افغان انٹیلیجنس اہلکار کو ضلع قلعہ عبداللہ کے افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن سے گرفتار کیا گیا۔
فرنٹیئر کور کے ترجمان کے مطابق مبینہ افغان انٹیلیجینس اہلکار کی گرفتاری چمن کے علاقے شہیدان سے ایک کاروائی کے دوران عمل میں لائی گئی۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ گرفتار مبینہ ایجنٹ سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے جسے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تخریب کاری کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔
دریں اثناء وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثنا اللہ زہری نے افغان مبینہ ایجنٹ کی گرفتاری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے خلاف اندرونی اور بیرونی سازشوں کو ناکام بنا دیا جائے گا۔
خیال رہے کہ بلوچستان میں سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں حالات خراب ہوئے تھے۔
سرکاری حکام بلوچستان میں حالات کی خرابی کا ذمہ دار بعض قوم پرست قوتوں اور بیرونی ہاتھ بالخصوص بھارت اور اس کی خفیہ ایجنسی را کو ٹھرا رہے ہیں۔
بلوچستان کے بعض بلوچ قوم پرست حالات کی خرابی کا ذمہ دار وفاقی حکومت کی پالیسیوں بالخصوص بلوچستان کے وسائل کو وہاں کے عوام کی مرضی کے خلاف استعمال کی پالیسی کو قرار دیتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







