پاکستان: غیرت کے نام پر ایک برس میں 1100 خواتین قتل

،تصویر کا ذریعہHRCP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں انسانی حقوق کے کمیشن کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال ملک بھر میں غیرت کے نام پر 1100 خواتین کو قتل کیا گیا جبکہ اس دوران غیرت کے نام پر قتل ہونے والے مردوں کی تعداد 88 ہے۔
جمعہ کو پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے سنہ 2015 کی ایک رپورٹ جاری کی۔ جس میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ برس ملک بھر سے 833 خواتین کو اغوا کرنے کے مقدمات رپورٹ کیے گئے اور ان واقعات میں ملوث افراد کی خلاف قانونی کارروائی بہت کم ہوئی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران 939 خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ 777 خواتین نے گذشتہ برس خود کشی یا پھر خودکشی کرنے کی کوشش کی۔
رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ملک میں سزائے موت پر عارضی پابندی ہٹنے کے بعد سے 47 خواتین قیدی پھانسی لگنے کی منتظر ہیں۔ اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر خواتین کو قانونی معاونت فراہم نہیں کی گئی ہے۔
سنہ 2015 میں بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے خلاف واقعات میں سنہ 2014 کی نسبت سات فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں جنسی تشدد کے 3768 واقعات درج کیے گئے۔
جنسی تشدد کا شکار ہونے والوں میں 1974 لڑکیاں اور 1794 لڑکے شامل ہیں۔جنسی تشدد کا شکار ہونے والوں کی عمریں گیارہ سال سے لے کر پندرہ سال کے درمیان ہیں۔
رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ملک بھرمیں روزانہ کی بنیاد پر دس بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پھانسیوں کے بارے میں انسانی حقوق کے کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران 327 افراد کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ جس کے نتیجے میں پاکستان دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہوگیا ہے جہاں پھانسیوں کی شرح سب سے زیادہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنہ 2015 میں توہین مذہب کے الزام میں 22 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں 15 مسلمان، 4 مسیحی اور 3 احمدی شامل ہیں۔
رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ گذشتہ چند برسوں کے دوران عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے واقعات کی وجہ سے اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق توہین مذہب کے قانون کے اطلاق کے حوالے سے عدلیہ کی رائے میں نمایاں اور مثبت تبدیلی دیکھنے کو ملی۔
اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سنہ 2015 میں ملک بھر میں پولیس مقابلوں میں 2108 مرد اور 7 خواتین ہلاک ہوئیں۔
ملک بھر میں تشدد کے واقعات میں 4600 افراد ہلاک ہوئے جبکہ سنہ 2014 میں یہ تعداد 7622 تھی۔
جبری گمشدگی کے بارے میں اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران صرف صوبہ بلوچستان میں جبری گمشدگی کے 151 واقعات رونما ہوئے ہیں جبکہ جبری گمشدگیوں سے متعلق بنائے گئے تحقیقاتی کمیشن میں 1400 کے قریب مقدمات زیر التوا ہیں۔







