’ایسٹر کی خوشیاں دوبالا کرنے گئے تھے‘

لاہور میں ہونے والے خود کش حملے کا شکار بننے والوں میں 14 مسیحی افراد بھی شامل تھے
،تصویر کا کیپشنلاہور میں ہونے والے خود کش حملے کا شکار بننے والوں میں 14 مسیحی افراد بھی شامل تھے

لاہور کے مختلف مسیحی قبرستانوں میں گلشن اقبال پارک دھماکے میں ہلاک ہونے والے 14 مسیحی افراد کی تدفین کر دی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق بم دھماکے میں اب تک مجموعی طور پر 68 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 14 مسیحی بھی شامل تھے۔ جان سے جانے والے مسیحی افراد کو آخری رسومات کی ادائیگی کے بعد شہر کے مختلف قبرستانوں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

لاہور سے صحافی اے این خان کی رپورٹ کے مطابق کچھ افراد کو یوحنا آباد اور کچھ کو مڑیاں کے مسیحی قبرستان میں دفن کیا گیا۔ مارے جانے والوں میں رحمت نامی شخص کے خاندان کے تین بچے بھی شامل ہیں۔

پانچویں جماعت کا طالب علم سومل طارق اور ساحل رحمت اپنے تیسرے کزن کا جھولا جھول رہے تھے کہ تینوں دہشت گردی کا شکار ہوگئے۔ رحمت کے مطابق ایسٹر کے موقعے پر وہ پورے خاندان کو سیر کے لیے گلشن اقبال پارک لے کر گئے تھے۔

ساحل اور سومل کی آخری رسومات گارڈن ٹاون میں واقع مسیحی قبرستان میں ادا کی گئیں۔ وفاقی وزیر کامران مائیکل نے بھی تدفین میں شرکت کی اور غم زدہ خاندان کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔

اس موقعے پر کامران مائیکل کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اب اور زیادہ شدت کے ساتھ جاری رکھی جائے گی اور بلا رنگ و نسل و مذہب دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائیاں کی جائیں گی۔

انھوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف نے دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق آپریشن کا حکم دے دیا ہے اور قوم بہت جلد اس کے مثبت اثرات دیکھے گی۔

رحمت کی طرح طارق گل کا خاندان بھی ایسٹر کی خوشیاں دوبالا کرنے کے لیے گلشن اقبال پارک گیا تھا۔ طارق گل کے مطابق ان کے خاندان کے کئی افراد دھماکے میں شدید زخمی ہوئے ہیں جن میں ان کی اہلیہ، دو بہنیں اور بیٹی سارہ گل شامل ہیں۔

طارق گل کو سب سے زیادہ فکر سارہ کی ہے جو شیخ زید اسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں تشویش ناک حال میں زیرعلاج ہیں، جبکہ ان کی اہلیہ اور دونوں بہنیں جناح ہسپتال میں داخل ہیں۔

لاہور کی ایک مسیحی بستی میں پارک میں ہلاک ہونے والے ایک شخص کا جنازہ لے جایا جا رہا ہے
،تصویر کا کیپشنلاہور کی ایک مسیحی بستی میں پارک میں ہلاک ہونے والے ایک شخص کا جنازہ لے جایا جا رہا ہے

ساحل اور سومل کی طرح مزنگ لاہور کا ایک مسلم خاندان بھی وحشت ناک دہشت گردی کا شکار ہوا۔ اس کے علاوہ سندھ کے ضلع سانگھڑ سے آنے والے چار مہمان اپنے چار میزبانوں کے ساتھ گلشن اقبال پارک دھماکے میں لقمۂ اجل بن گئے۔

لاہور کی ضلعی انتظامیہ کے ترجمان کے مطابق اب تک سات میتیں سندھ، تین بلوچستان، ایک میت آزاد کشمیر روانہ کر دی گئی ہیں جبکہ گلشن اقبال پارک دھماکے میں ہلاک ہونے والے تین افراد کی میتیں قصور، آٹھ اوکاڑہ، چار شیخوپورہ، دو، دو حافظ آباد اور ساہیوال بھیجی گئی ہیں۔

ترجمان کے مطابق اس بم دھماکے میں کل 355 افراد زخمی ہوئے تھے جن میں 203 زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد ہسپتالوں سے فارغ کر دیا ہے، جبکہ 142زخمی اب بھی سروسزہسپتال، گنگا رام ، باجوہ ہسپتال، جناح اور فاروق ہسپتال علامہ اقبال ٹاؤن میں زیر علاج ہیں۔