سانحۂ گلشنِ اقبال ایک دن بعد

لاہور کے گلشنِ اقبال پارک میں ہونے والے خودکش حملے کے ایک دن بعد کے مناظر۔

لاہور کے گلشِن اقبال پارک میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی بڑی تعداد میں بچے شامل ہیں جو چھٹی کے دن اپنے والدین کے ہمراہ پارک میں سیر و تفریح کے لیے گئے تھے۔
،تصویر کا کیپشنلاہور کے گلشِن اقبال پارک میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی بڑی تعداد میں بچے شامل ہیں جو چھٹی کے دن اپنے والدین کے ہمراہ پارک میں سیر و تفریح کے لیے گئے تھے۔
یہ خودکش حملہ گلشن اقبال پارک کے مرکزی گیٹ کے پاس ہوا جہاں سے کچھ ہی فاصلے پر بچوں کے جھولے لگے ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنیہ خودکش حملہ گلشن اقبال پارک کے مرکزی گیٹ کے پاس ہوا جہاں سے کچھ ہی فاصلے پر بچوں کے جھولے لگے ہوئے ہیں۔
لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں سینکڑوں زخمیوں کا علاج ہو رہا ہے، جن میں سے درجنوں کی حالت تشویش ناک ہے۔ شہر کے تمام ہسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنلاہور کے مختلف ہسپتالوں میں سینکڑوں زخمیوں کا علاج ہو رہا ہے، جن میں سے درجنوں کی حالت تشویش ناک ہے۔ شہر کے تمام ہسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔
حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین کے لیے کھدائی شروع کر دی گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنحملے میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین کے لیے کھدائی شروع کر دی گئی ہے۔
مرنے والوں کی حق میں دعا۔
،تصویر کا کیپشنمرنے والوں کی حق میں دعا۔
مرنے والوں میں بہت سے افراد کا تعلق مسیحی برادری سے تھا جو ایسٹر کے تہوار کے موقعے پر پارک میں سیر کے لیے گئے تھے۔
،تصویر کا کیپشنمرنے والوں میں بہت سے افراد کا تعلق مسیحی برادری سے تھا جو ایسٹر کے تہوار کے موقعے پر پارک میں سیر کے لیے گئے تھے۔
اب تک کی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں کم از کم 70 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں لاہور کے علاوہ دوسرے شہروں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔
،تصویر کا کیپشناب تک کی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں کم از کم 70 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں لاہور کے علاوہ دوسرے شہروں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔