’ایف آئی اے نے را اور منی لانڈرنگ پر تعاون مانگا ہے‘

متحدہ قومی موومنٹ کے سابق رکن مصطفی کمال نے کہا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے سندھ کے سربراہ شاہد حیات نے ان سے بھارتی خفیہ ادارے ’را‘ اور منی لانڈرنگ کے معاملات میں تعاون کی اپیل کی ہے۔

بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے کراچی کے سابق ناظم نے شاہد حیات سے اپنی ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر کی بات غور سنی تاہم اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے پاس منی لانڈرنگ یا ’را‘ کے حوالے سے کوئی نئی معلومات نہیں ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں سابق ناظم کراچی کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی ان کے اس حوالے سے تحفظات تھے جس کے باعث انھوں نے اپنی سینیٹ کی سیٹ چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔

مصطفیٰ کمال کے بقول انھوں نے خود کو برائی سے دور کرنے کی خاطر ایم کیو ایم کو خیرباد کہا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گذشتہ دس دنوں کے دوران انھیں کراچی سمیت ملک بھر سے حمایت ملی ہے۔

مصطفیٰ کمال نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انیس قائم خانی کا متحدہ کے عسکری ونگ سے کوئی تعلق نہیں ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنمصطفیٰ کمال نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انیس قائم خانی کا متحدہ کے عسکری ونگ سے کوئی تعلق نہیں ہے

اس جماعت کی تشکیل کے بعد سے اس میں اور افتخار عالم اور رابطہ کمیٹی کے سابق رکن وسیم آفتاب شامل ہو چکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ تین سال تک خاموش رہے لیکن الطاف حسین کا جانب سے مسلسل کراچی کی عوام کو تشدد پر ابھارنے والی تقاریر کے وجہ سے انھوں عوام کو سچ بتانے کے لیے اپنی آواز بلند کرنے کا فیصلہ کیا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے ناقد کہہ رہے ہیں کہ ان کے پیچھے ریاستی اداروں کا ہاتھ ہے تو سابق ناظم کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پیچھے اللہ کے سوا کسی کا ہاتھ نہیں ہے۔ اگر ایجنٹ بننا ہوتا تو ایم کیو ایم رہ کر ایجنٹ بن جاتے۔‘

مصطفیٰ کمال نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انیس قائم خانی کا متحدہ کے عسکری ونگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کے بقول پارٹی کا عسکری ونگ ملک سے باہر سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔

سابق ناظم کے بقول ان کی آمد کا 1992 کی ایم کیوایم حقیقی والی صورتحال سے موازنہ کرنا درست نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت شہر میں قتل وغارت تھی جبکہ انھوں نے تو کسی کو ایک پتھر تک نہیں مارا ہے۔