ڈاکٹر صغیر کا مصطفیٰ کمال کا ساتھ دینے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
ایم کیو ایم کے سابق ڈپٹی کنوئنیر ڈاکٹر صغیر نے بھی سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال کا ساتھ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فون والی سیاست نہیں ہونی چاہیے کہ ’فون آگیا تو لرزہ طاری ہوگیا۔‘
تین بار صوبائی وزیر کے منصب پر فائز رہنے والے ڈاکٹر صغیر احمد نے مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی کی موجودگی میں پیر کو ایک پریس کانفرنس سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ اس لیے آئے ہیں کہ پچھلے چند برسوں سے گلی اور محلوں کی تباہی و بربادی ہوتے دیکھ رہے ہیں اور اس کے بعد ان کے لیے ممکن نہیں رہا کہ وہ مزید خاموش رہیں۔
ڈاکٹر صغیر احمد کا کہنا تھا کہ انیس قائم خانی اور مصطفیٰ کمال نے جو بات کی وہ زبان زدِ عام ہے لیکن کوئی اس بارے میں بات نہیں کرتا۔’میں اِن کے ساتھ آج آیا ہوں اس سے پہلے کبھی نہیں ملا، اِن دونوں کے متعلق دسیوں باتیں سُنتے رہے۔ لیکن کسی میں صداقت نہیں تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ مجھے اپنا کردار صاف اور واضح طور پر ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ دو افراد سے اتنا خوف کیوں؟‘

،تصویر کا ذریعہReuters
زمانہ طالب علمی سے ایم کیو ایم سے وابستہ ڈاکٹر صغیر احمد کا کہنا تھا کہ سیاست کسی کو ِخوش کرنے کے لیے نہ کریں۔ ’فون والی سیاست نہیں ہونی چاہیے کہ فون آگیا تو لرزہ طاری ہوگیا۔ میں بھی اسی کمزوری اور مصلحتوں کا شکار رہا ہوں۔ لاکھ نہ چاہتے ہوئے وزارتوں میں جاتا رہا ہوں۔ آج مجھے یہے یقین ہے کہ باضمیر لوگ یہاں آئیں گے۔ آپ کو کس بات کا ڈر ہے؟‘
ڈاکٹر صغیر احمد کا کہنا تھا کہ یہ ٹرینڈ کہ ’کسی کا متھا گھوم گیا تو وہ کسی کو ٹھوک دے گا، یہ ختم کریں۔ خدا کو منظور ہوگا تو مجھے قبر ملے گی۔‘
مصطفیٰ کمال نے اپنی جماعت کا ابھی کوئی نام واضح نہیں کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی جماعت میں جا رہے ہیں نہ تحریکِ انصاف سے وعدہ کیا ہے۔



