’شہباز تاثیر بازیاب نہیں ہوئے، اغوا کاروں نے خود چھوڑ دیا‘

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے اغوا کیے جانے والے بیٹے شہباز تاثیر کی مبینہ بازیابی کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی کمیٹی نے کہا ہے کہ مغوی کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بازیاب نہیں کروایا بلکہ اُنھیں اغوا کار خود چھوڑ کر گئے۔
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر شہباز تاثیر کی بازیابی سے متعلق خبروں پر ایکشن لیتے ہوئے سپیشل سیکریٹری داخلہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی تھی جسے دو روز میں شہباز تاثیر کی بازیابی سے متعلق تحقیقات کا حکم دیا تھا۔
وزراتِ داخلہ کے ترجمان کے مطابق سنیچر کو وزیر داخلہ کو پیش کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس بات پر فی الوقت کوئی رائے قائم نہیں کی جاسکتی کہ شہباز تاثیر کو ایسے ہی رہا کیا گیا ہے یا اس کی عوض اغوا کاروں کو تاوان کی رقم فراہم کی گئی ہے۔
اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ اُنھوں نے کارروائی کر کے شہباز تاثیر کو بازیاب کروایا ہے۔
اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کسی اہلکار کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس واقعے کو اپنی کارکردگی سے منسوب کرے۔‘
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی حکومت ابھی بھی اپنے اس موقف پر قائم ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہباز تاثیر کو ایک آپریشن کے ذریعے کچلاک کے علاقے سے بازیاب کروایا ہے۔
اس رپورٹ میں کمیٹی نے متعلقہ افسران کو سخت تنبیہ کی سفارش کی ہے۔



