تبلیغی جماعت کےممبران پر پابندیاں کیوں؟
- مصنف, عنبر شمسی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، راولپنڈی
حکومتِ پنجاب نے حال ہی میں کالج اور یونیورسٹیوں میں تبلیغی جماعت کی تقریبات اور ان جامعات کے ہوسٹلوں میں جماعت کے اراکین کی رہائش پر پابندی لگائی ہے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ اس غیر سیاسی تنظیم پر اس قسم کی پابندی لگائی گئی ہے۔
راولپنڈی میں ویسٹرج کے علاقے میں تبلیغی جماعت کا بڑا مرکز زکریا مسجد میں واقع ہے جہاں کے امام مولانا یوسف کے مطابق وہاں 300 اراکین کی رہائش کی گنجائش ہے۔
مولانا یوسف کے مطابق اس مرکز میں زیادہ تر لوگ افغانستان، خیبر پختونخوا اور شمالی علاقوں سے آتے ہیں اور دو سے تین دن تک قیام کرنے کے بعد، صوبۂ پنجاب کی مختلف مساجد میں چلے جاتے ہیں جہاں سے تبلیغ کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔
تبلیغی جماعت کا قیام 1927 میں بھارت میں عمل میں آیا اور یہ تحریک دنیا کے سو سے زیادہ ممالک میں پھیل چکی ہے، جس کے اراکین کی تعداد کروڑوں میں بتائی جاتی ہے۔
اس تنظیم کا بنیادی مقصد لوگوں کو دین کی طرف مائل کرنا ہے۔ زکریا مسجد کے امام مولانا یوسف کا کہنا ہے کہ ’ہم زور دیتے ہیں کہ لوگ دنیاوی کاموں کی بجائے اپنا وقت دین کو دیں۔‘

انھوں نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے مزید بتایا کہ مسجد آنے والے افراد کے شناختی کارڈ دیکھے جاتے ہیں تاہم آمد و رفت کا ریکارڈ نہیں رکھا جاتا۔
’ہمیں نہیں معلوم کہ ان کے دلوں میں کیا ہے اور نہ ہی ہم تبلیغ کے علاوہ ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شاید یہ ایک وجہ ہے کہ حکومتِ پنجاب نے حال ہی میں جامعات اور کالجوں میں تبلیغی جماعت کے اراکین کے درس دینے پر پابندی لگائی ہے۔
ڈی سی او راولپنڈی ساجد ظفر نے بتایا کہ یہ فیصلہ چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعد سکیورٹی کے خدشات کے تحت کیا گیا اور اس سلسلے میں تمام وائس چانسلروں کو بتا دیا گیا ہے۔
’کوئی بھی جماعت یا تنظیم، چاہے وہ تبلیغی جماعت ہو یا کوئی اور ہو، مقامی انتظامیہ کی اجازت کے بغیر کوئی تقریب منعقد نہیں کر سکتی۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’زیادہ مسئلہ ان جامعات میں ہوتا ہے جہاں طلبہ کی یونین اپنی طرف سے ان تنظیموں اور جماعتوں کو دعوت دیتی ہیں، جیسے کہ پنجاب یونیورسٹی میں ہوتا ہے۔‘
اس پابندی کے بارے میں راولپنڈی میڈیکل کالج کے طلبہ کہتے ہیں کہ دینی درس میں حرج نہیں لیکن دین کو غلط مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
طالبعلم ابوبکر نے کہا: ’اگر ان لوگوں پر شک پڑتا ہے تو خفیہ ادارے ان کے بارے میں تفتیش کریں، کارڈ بنوائے جائیں اور ان کو پھر آنے دیں۔ یہ تو دین کا کام ہے، کوئی مسئلہ تو نہیں ہے۔‘
دوسری جانب ایک اور طالبعلم محمد علی کا کہنا ہے کہ ’اگر انھوں نے یہ کام کرنا ہے، تو دین کے نام پر کریں، اپنی جماعت کے نام پر کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ آخر کالج میں مذہبی سوسائٹیاں بھی یہی کرتی ہیں۔‘
مری کے مضافات میں ایک گاؤں کے رہائشی عمران عباسی کو سکول ہی میں تبلیغی جماعت نے دعوت دی تھی۔ انھوں نے میٹرک کے بعد کراچی اور راولپنڈی میں دینی تعلیم حاصل کی اور پھر اپنے گاؤں میں درس اور تبلیغ کا سلسلہ شروع کیا۔

اس پابندی کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ تبلیغی جماعت ایک پرامن تنظیم ہے جس کے اراکین دنیا بھر میں کھل کر کے کام کرتے ہیں۔
’یہ تو ہمارے ذہن سے بالاتر ہے کہ انھوں نے پابندی کیوں لگائی۔ ہمارا موقف ہے کہ پرامن درس پوری دنیا کے اندر ہے۔ برطانیہ، فرانس اور امریکہ میں جماعتیں جاتی ہیں ان کی کتنی چھان بین کی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں بہتر انداز میں وہاں کھلی اجازت ہے۔‘
شدت پسندی کے امور کے ماہر عامر رانا کا کہنا ہے کہ مسئلہ تبلیغی جماعت کی سرگرمیوں کا نہیں بلکہ جماعت کے تنظیمی ڈھانچے کا ہے۔
’تبلیغی جماعت کا ڈھانچہ بہت ڈھیلا ہے۔ یہی تنظیم کی خوبی اور خامی ہے۔ اس کا غلط استعمال پھر شدت پسند کرتے ہیں۔ بعض شدت پسندوں کو اپنی ابتدائی مذہبی تعلیم کے لیے جماعت کے مراکز بھیجا گیا۔ ایسے بھی واقعات مسلسل ہو رہے ہیں کہ شدت پسند تبلیغی جماعت کے رکن کے روپ میں چھپتے ہیں۔ یہ خطرہ خاص کر تعلیمی اداروں میں ہے جہاں انھیں چھپنے کے مواقع ملتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ پابندی کا فیصلہ تو کیا گیا ہے لیکن اس پر عمل مشکل ہوگا۔ ’بیوروکریسی میں، سیاسی جماعتوں میں، تبلیغی جماعت کا خاصا اثر و رسوخ ہے۔‘
حکومتِ پنجاب کی جانب سے تبلیغی جماعت کی تعلیمی اداروں میں سرگرمیوں پر پابندی کے فیصلے پر عمل ہو نہ ہو، لیکن اس میں نہ صرف تبلیغی جماعت بلکہ دیگر مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے لیے یہ بالواسطہ پیغام ضرور ہے کہ وہ اپنی صفوں پر بھی کڑی نظر رکھیں۔







