’کل سکول کھل جائیں گے‘: پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن

    • مصنف, شمائلہ جعفری
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

حکومت سے کامیاب مذاکرات کے بعد لاہور میں پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن نے کل سے تمام سکولوں کو کھولنے کا اعلان کردیا ہے۔

صوبے بھر کے سکولوں کو 25 جنوری کو سردی اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر بند کیا گیا تھا۔

تمام سرکاری سکولوں کو آج صبح دوبارہ کھول دیا گیا تھا۔

تاہم 12 نجی سکول سسٹمز نے حکومت سے اختلافات کے باعث تعلیمی سلسلہ بحال کرنے سےانکار کر دیا تھا۔

پنجاب بھر میں سکولوں میں تعلیمی سلسلہ گذشتہ ہفتے اچانک روک دیا گیا تھا اور رات گئے جاری کیے گئے ایک نوٹیفکیشن میں سخت سردی کو سکول بند کرنے کا جواز بنایا گیا تھا۔

تاہم جلد ہی میڈیا پر ایسی رپورٹس اورسرکاری دستاویزات منظرعام پر آئیں تھیں جن میں باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعد پنجاب کے تعلیمی اداروں پر ممکنہ حملے کے خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔

حکومت نے سکولوں کی بندش کے بعد ان میں حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینا شروع کیا تو ناقص انتظامات کے باعث لگ بھگ 1300 نجی سکولوں کو شو کاز نوٹس جاری کیے گئے اور تقربیاً تین سو کے خلاف مقدمات درج کر کے انھیں سیل کردیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

نجی سکولوں کی نمائندہ تنظیم آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نے اس پر حکومت سے احتجاج بھی کیا۔

فیڈریشن کے صدر مرزا کاشف کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے حفاظتی انتظامات کی تمام تر ذمے داری سکول مالکان پر ڈال دی گئی ہے جو مناسب نہیں۔ ہر شہری کی حفاظت حکومت کی آئینی ذمےداری ہے ۔

فیڈریشن کی جانب سے سکیورٹی کے نام پر سکول مالکان کو ہراساں کیے جانے کی شکایت بھی کی گئی۔

تاہم پنجاب کے وزیر تعلیم رانا مشہود نے کل دن بھر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن سے مذاکرات کیے اور نجی سکولوں کے خلاف مقدمات منجمد کرنے اور انھیں ڈی سیل کرنے کے احکامات جاری کیے جس کے بعد بہت سے نجی سکولوں نے صبح سے کلاسز کے اجرا کا اعلان کیا تھا۔

تاہم نجی سکولوں کے 12 بڑے گروپس نے سکول کھولنے سے انکار کردیا تھا۔

آج کے مذاکرات کے بعد حکومت اور سکول مالکان میں اختلافات ختم ہوگئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

حکومت کی جانب سے سکولوں کو سکیورٹی کے سلسلے میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی ہے تاہم سکیورٹی کے نام پر فیسوں میں مزید اضافے کی اجازت نہیں دی گئی۔

مذاکرات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کے صدر مرزا کاشف کا کہنا تھا کہ ’ہمارے کچھ معاملات حل طلب تھے جن کے بارے میں ہمیں یقین دہانی کروائی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سےکہ انھیں جلد حل کیا جائے گا۔ حفاظتی انتظامات کے لیے بنائے گئے طریقہ کار اور ضوابط کے بارے میں بھی بات ہوئی ہے جس پر حکومت نے ہمیں اپنے تعاون کا عندیہ دیا ہے۔ہمیں توقع ہے کہ حکومت اپنے وعدوں پر عمل کرے گی۔ کل سے پنجاب اور اسلام آباد کے تمام نجی سکول کھول دیے جائیں گے۔‘

وزیر تعلیم رانا مشہود کا کہنا تھا ’تعلیم پنجاب حکومت کی ترجیع ہے۔ ہم سب سے مل کر چلنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سکول مالکان کے تحفظات کو دور کیا گیا ہے۔ ہم تعلیم کے شعبے میں نجی سکولوں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں۔حکومتی ادارے سکولوں کے ساتھ سکیورٹی کے حوالے سے مکمل تعاون کریں گے۔‘

سکولوں کی اچانک بندش پھر بند کرنے کی وجہ پر ہونے والے تنازعے اور سکولوں کے کھلنے کے معاملے پر ہونے والی لے دے سے سب سے زیادہ پریشان طلبہ اور ان کے والدین رہے جو ایک طرف تو سکیورٹی کے حوالے سے انتظامات غیر تسلی بخش ہونے پر ہراساں رہے تو دوسری طرف سکولوں کے بند ہونے اور کھلنے کی اطلاعات بروقت اور واضح طور پر نہ ملنے پر ذہنی دباؤ کا شکار رہے۔