’سعودی عرب، ایران سے پہلے اپنے ملک پر توجہ دیں‘

سینیٹ میں چارسدہ کے واقعے پر مذمتی قرارداد منظور کی لی گئی ہے اور حکومت سے کہا گیا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کرے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسینیٹ میں چارسدہ کے واقعے پر مذمتی قرارداد منظور کی لی گئی ہے اور حکومت سے کہا گیا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کرے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

خیبر پختونخوا کے شہر چارسدہ میں یونیورسٹی میں شدت پسندوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ارکان پارلیمنٹ نے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے بارے میں بریفنگ نہ دینے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس پلان پر عمل درآمد کے لیے مربوط پالیسیوں کی بھی ضرورت ہے۔

پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ ملک میں شدت پسندی کے خاتمے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نیشنل ایکشن پلان کی منظوری دی لیکن اس کے باوجود آج تک پارلیمنٹ کو اس پلان کے بارے میں بریفنگ تک نہیں دی گئی۔

اُنھوں نے کہا کہ شدت پسندی کے خاتمے کے لیے اُن کی جماعت نے روایت سے ہٹ کر اقدام اُٹھائے حتیٰ کہ کچھ بنیادی حقوق بھی سلب کروائے لیکن اس کا صلہ عوام کوکچھ نہیں مل رہا۔

شریں رحمان نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کو مزید موثر بنانے کے لیے اُن کی جماعت پارلیمنٹ سمیت دیگر متعقلہ فورموں پر آواز اُٹھا رہی ہے اور ’چارسدہ یونیورسٹی کے واقعے سے متعلق وفاقی اور صوبائی حکومت کو جوابدہ ہونا ہو گا۔‘

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کو دوسرے ملکوں کے مسائل حل کروانے کی بجائے اپنے ملک کے مسائل کے حل کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

اُنھوں نے وزیر اعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’سعودی عرب اور ایران میں مصالحت کروانے سے زیادہ اپنے ملک کے حالات ٹھیک کرنے پر توجہ دیں۔‘

شیخ رشید احمد نے کہا کہ حکومت کو ’دوسرے ملکوں کے معاملات میں مداخلت کی پالیسی کو تبدیل کرنا ہوگا ورنہ یہ آگ ہمارے ملک میں بھی آ سکتی ہے جس کا ناقابل تلافی نقصان ہو سکتا ہے۔‘

قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں آرمی پبلک سکول کے بعد کسی بھی تعلیمی ادارے کو شدت پسندوں کی جانب سے نشانہ بنانے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ حکومتی اداروں کو ان دونوں واقعات میں ہونے کوتاہیوں کو سامنے رکھتے ہوئے نئی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔

آفتاب شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں کے خلاف شروع کردہ ضرب عضب کے بعد شدت پسندوں کی طرف سے ردعمل آنا فطری عمل تھا جس کے لیے اُنھوں نے آسان ہداف کو نشانہ بنایا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے حکومتی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے ملک کی 68 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ دیگر ملکوں کے معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی اپنائی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

اُنھوں نے سنہ 1980 میں افغان جنگ میں سابق فوجی صدر ضیاء الحق کی پالیسیوں کو نتقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان پالیسوں کی وجہ سے ملک ابھی تک نتائج بھگت رہا ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ’اس وقت تک خطے میں امن نہیں آئے گا جب تک اس خطے کے ممالک ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت کرنا بند نہیں کریں گے۔‘

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے مشرقی اور مغربی سرحدوں کے ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ شدت پسندوں کے خلاف موثر کارروائی کے نتیجے میں اب دہشت گرد عوام اور آسان اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

دوسری جانب سینیٹ میں چارسدہ کے واقعے پر ایک مذمتی قرارداد منظور کر لی گئی ہے اور حکومت سے کہا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کرے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ ’چارسدہ میں یونیورسٹی پر حملہ سکیورٹی فورسز کی نہیں بلکہ ریاستی پالیسی کی ناکامی ہے۔‘

اُنھوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت افغانستان کو پانچواں صوبہ تصور کرتے ہوئے اُس کے معاملات میں مداخلت کر رہی ہے۔

حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے سینیٹر صلاح الدین ترمذی کا کہنا تھا کہ اگر آرمی پبلک سکول کے واقعے کے ذمہ دارں کو سزا دی جاتی تو چارسدہ یونیورسٹی کا واقعہ پیش نہ آتا۔ اُنھوں نےکہا کہ ملکی سلامتی سے متعلق اگر پارلیمنٹ کی کمیٹی بنا دی جائے تو یہ حکومت کا احسن اقدام ہوگا