اقتصادی راہداری کی حفاظت کے لیے ایف سی تعینات کی جائے گی

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے علاقوں میں شاہراہ قراقرم کی حفاظت کے لیے فرنٹیئر کانسٹیبلری کی تعیناتی اور شاہراہ کے ساتھ علاقوں میں واپڈا کے منصوبے جلد مکمل کرنے کے لیے وفاقی حکومت سے رابطہ کیا جائے گا۔
پشاور میں آج گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے ایپکس کمیٹی کا پہلا مشترکہ اجلاس گورنر ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں بنیادی نکتہ پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے شاہراہ قراقرم کے لیے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینا تھا۔
اس اجلاس میں گورنر خیبر پختونخوا مہتاب احمد خان کے علاوہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حفیظ الرحمان، کور کمانڈر پشاور اور دیگر سول اور فوجی حکام شریک تھے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گورنر خیبر پختونخوا وزیر اعظم پاکستان سے درخواست کریں گے کہ وفاق اور دیگر علاقوں میں تعینات فرنٹیئر کانسٹیبلری خیبر پختونخوا کو واپس کی جائے۔
اس کے علاوہ فیصلہ کیا گیا کہ خیبر پختونخوا کی حدود میں شاہراہ کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔
گورنر ہاؤس سے جاری بیان سے یہ تاثر سامنے آیا ہے کہ اتنے بڑے منصوبے اور اہم شاہراہ کی حفاظت کے لیے پولیس کے ذیلی ادارے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
اس اجلاس میں مزید اقدامات تجویز کیے گئے ہیں لیکن اس بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ شاہراہ قراقرم کے قریب واپڈا کے منصوبے جلد مکمل کرنے کے لیے اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہو گا جس میں چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کے علاوہ سول اور ملٹری حکام اور دیگر تمام متعلقہ شخصیات یا سٹیک ہولڈرز شرکت کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اجلاس میں صوبے کے شمالی علاقوں سے گزرنے والی شاہراہ کی حفاظت کے لیے تو اقدامات تجویز کیے گئے ہیں لیکن صوبے کے جنوبی علاقوں کے بارے میں کوئی ذکر سامنے نہیں آیا۔

اس بیان سے یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے جیسے شاہراہ قراقرم خیبر پختونخوا میں واقع ہے حالانکہ اس کا تعلق وفاقی حکومت کے اس مشرقی منصوبے سے زیادہ ہے جس کا آغاز پہلے کیا جاتا رہا ہے۔
اس کے علاوہ اجلاس میں قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن سے متاثرہ افراد اور عارضی طور پر بےگھر افراد کی واپسی کے اقدامات پر بھی بات چیت کی گئی، اور ان متاثرہ افراد کی اپنے گھروں کی واپسی کے دوسرے مرحلے پر اقدامات پر غور کیا گیا۔
اس اجلاس کو سی پیک یا چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ضمن میں بھی اہمیت حاصل تھی۔ خیبر پختونخوا میں یہ تاثر عام ہے کہ وفاقی حکومت صوبے کو نظر انداز کر کے پنجاب کی طرف مشرقی حصے کی طرف زیادہ توجہ دے رہی ہے۔
اس بارے میں سیاسی جماعتوں کے مشترکہ اجلاس منعقد ہو چکے ہیں جس میں مغربی حصے کو مکمل توجہ دینے کے مطالبے کیے گئے ہیں۔







