’بلاول بھٹو کے پروٹوکول کے باعث بچی ہلاک‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سول ہپستال میں ایک تقریب میں آمد کے دوران ایک نو ماہ کی بیمار بچی ہلاک ہوگئی ہے۔ والدین کا الزام ہے کہ سرکاری پروٹو کول کی وجہ سے وہ وقت پر ہسپتال پہنچ نہیں پائے۔
کراچی سول ہپستال میں بدھ کی دوپہر کو ٹراما سینٹر کی افتتاحی تقریب منعقد کی گئی تھی، جس میں وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ اور صوبائی وزرا کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شرکت کی۔
عمارت کے اندر جب یہ تقریب جاری تھی تو ٹی وی چینلز کے کیمرہ مینز نے ایک شخص کو کپڑے میں لپٹے ہوئے بچے سمیت دوڑتے دیکھا اور کیمرے کی آنکھ نے ان کا تعاقب کرلیا۔
کچھ دیر بعد محمد فیصل نامی یہ شخص مردہ بچے کے ساتھ واپس آیا اور بتایا کہ اس کی نو ماہ کی بیٹی بسمہ شدید بیمار تھی وہ اس کو ہپستال لے کر آرہا تھا کہ پولیس کے محاصرے کی وجہ سے کہیں سے راستہ نہیں ملا اور جب ڈاکٹروں کے پاس پہنچا تو ان کا کہنا تھا کہ اگر دس منٹ قبل آتے تو بچی بچ جاتی۔
محمد فیصل بلوچ لیاری کے گبول پارک کے رہائشی ہیں بسمہ ان کی واحد اولاد تھی، جو سانس کی بیماری میں مبتلا تھی صبح کو تکلیف بڑھ جانے کی وجہ سے وہ اس کو سول ہپستال لےکر گئے تھے۔
فیصل بلوچ کا کہنا تھا کہ ’یہاں پر وی آئی پی کلچر ہے، غریب کی تو کوئی عزت نہیں ہے، بچی کی موت کے ذمہ دار حکومت وقت ہے ، ان ان کی آمد کی وجہ سے ہی یہ واقعہ پیش آیا ہے اگر یہ وزرا نہیں آتے تو میں بچی کو ڈاکٹروں دکھاتا اور گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے میں نتیجہ نکل آجاتا۔‘
کراچی شہر میں شہید بینظیر بھٹو کے نام سے یہ پہلا ٹراما سینٹر قائم کیا گیا ہے، سینئر صوبائی وزیر نثار کھوڑو نے بچی کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ بلاول بھٹو کی سکیورٹی بھی اہم ہے۔
نثار کھوڑو کے مطابق انہیں بچی کے والد کے ساتھ ہمدردی ہے، یہ پروٹوکول کی بات نہیں ہے وہ عمارت کے افتتاح کے لیے آئے تھے اس حوالے سے حکومت کی طرف سے کوئی بھی راستہ بلاک کرنے کے لیے نہیں کہا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’اگر وزیر اعلیٰ آرہے تھے تو ان کی حفاطت کے بھی انتظامات کیے جاتے ہیں اس کے علاوہ ہمارے سب سے زیادہ اہم بلاول بھٹو زرداری ہیں جن کے خاندان اور پارٹی پر سکیورٹی کے خدشات رہتے ہیں اگر ان کی سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے تو بھی پاکستان کی سالمیت کو نظر میں رکھ کر کیے گئے کیونکہ ان لوگوں کی سالمیت پاکستان کی سالمیت بن جاتی ہے۔‘
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت کو غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے۔ انھوں نے صوبائی حکومت کو مشورہ دیا کہ آئندہ ہسپتالوں میں پروگرام کا انعقاد نہ کیا جائے۔
دریں اثنا صوبائی وزیر نادیہ گبول بسمہ کے گھر پہنچی ہیں جہاں لوگوں نے احتجاج کیا اور ان کا موقف سننے سے انکار کردیا۔ نادیہ گبول نے واضح کیا کہ ٹراما سینٹر کی افتتاحی تقریب عمارت کے ایک حصے میں تھی جبکہ ہپستال کا راستہ الگ ہے۔
یاد رہے کہ کراچی میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی جانب سے اکثر شہر کی دو مرکزی شاہراہوں ایم اے جناح روڈ اور شاہراہ فیصل پر دھرنے اور احتجاج کیا جاتا ہے، ان ہی سڑکوں پر سول ہپستال، گردوں کا ہپستال ایس آئی یو ٹی، تھیلسمیا کے بچوں کے ہسپتال، جناح ہپستال، دل کے امرض کا سب سے بڑا ہپستال واقع ہے، جہاں مریضوں کو پہنچے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے اور ایمبولینسیں ٹریفک میں پھنس جاتی ہیں۔







