سکیورٹی اداروں کوآئین کی تعلیم دیں: سینیٹ کی تجویز

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے تجویز دی ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں میں آئین اور انسانی حقوق سے متعلق مضامین لازمی پڑھائے جائیں تاکہ اُنھیں ان اُمور کی آگہی دی جا سکے۔
منگل کے روز سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی کی سربراہی میں ہونے والے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں یہ بتایا گیا کہ ملک میں لاپتہ ہونے والے افراد کو کسی طور پر بھی انصاف تک رسائی حاصل نہیں ہے۔
حزب مخالف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ سپریم کورٹ میں جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کے مقدمات کی سماعت کے دوران اور ان افراد کے بارے میں بنائے جانے والے کمیشن نے بھی سفارشات دی تھیں کہ جبری گمشدگی کے واقعات کو روکنے کے لیے قانون سازی کی جائے، لیکن ابھی تک حکومت کی طرف سے ایسا نہیں کیا گیا۔
اُنھوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے بارے میں سینیٹ کی کمیٹی نے مجوزہ قانون سازی کا مسودہ بھی پیش کیا تاکہ خفیہ اداروں کو ایسے واقعات میں ملوث ہونے سے روکا جاسکے۔
ملک میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے خفیہ اداروں پر الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ ان اداروں کے اہلکار لوگوں کو جبری طور پر گمشدہ کرنے کے واقعات میں ملوث ہیں، تاہم خفیہ اداروں کی طرف سے ان الزامات کی تردید ہوتی رہی ہے۔
اجلاس میں حکومت سے انسانی حقوق کے بارے میں سینیٹ کی کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کے بارے میں رپورٹ بھی طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اجلاس میں توہین مذہب کے قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے مناسب قانون سازی کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
یہ تجویز سینیٹر فرحت اللہ بابر نے دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ توہین مذہب کے قانون کااقلیتوں اور معاشرے کے کمزور طبقوں کے خلاف غلط استعمال ہو رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس ضمن میں ایک کمیٹی بنائی جائے جو ملک کے مذہبی علما اور دیگر افراد سے مشاورت کر کے تجاویز کو حتمی شکل دے۔
فرحت اللہ بابر نے کہا کہ توہین مذہب کے قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سپریم کورٹ کے فیصلے کو بھی سامنے رکھا جائے جو اُنھوں نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے میں مجرم ممتاز قادری کی درخواست پر دیا تھا۔







