’ہولی پر رنگ پھینکیں، بڑی خوشی ہوگی‘

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے ہندو برادری کے تہوار ہولی میں رنگوں سے کھیلنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
اس خواہش کا اظہار انھوں نے دیوالی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی وزیر اعظم نے ہندو برادری کے مذہبی تہوار میں شرکت کی ہے۔
میاں نواز شریف اس سے پہلے بھی کراچی میں ہی پارسی برادری کے تہوار نوروز میں شریک ہوئے تھے۔
میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ہندو دوستوں کے ساتھ گلا کرتے رہے ہیں کہ وہ کیوں اپنی خوشیوں میں انھیں نہیں بلاتے، انھیں بھی خوشیوں میں شریک ہونے کا موقعہ دیں اور آئندہ اس جگہ بلائیں جہاں آپ تہوار مناتے ہیں۔
’جس طرح آپ ایک دوسرے پر رنگ پھینکتے ہیں مجھ پر بھی پھینکیں، اس سے مجھے بڑی خوشی ہوگی۔‘
کراچی کے مقامی ہوٹل میں یہ ایک عام نہیں خصوصی تقریب تھی جس میں تمام اقلیتی برادریوں کے افراد شریک تھے اور ابتدا بھی غیر روایتی انداز میں کی گئی جب سٹیج کی میزبان ڈاکٹر مزنا ابراہیم نے گڈ آفٹر نون، نمستے، سسریا کال کہہ کر شرکا کا خیر مقدم کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قرآن کی تلاوت کے بعد ہال میں گائتری منتر گونج اٹھا جس کی گائیک سندھ کی نامور گلوکارہ شہنیلا علی تھیں، مسلم لیگ نون اقلیتی ونگ کے رہنماؤں نے اپنی تقاریر میں دیوالی کے تاریخی پس منظر سے آگاہ کیا۔
میاں نواز شریف نے اپنے خطاب میں بھارت میں سکھ خاندان کے ساتھ اپنے قریبی مراسم سے بھی شرکا کو آگاہی دی۔
انھوں نے بتایا کہ ان کے والد میاں شریف کا گھر ہندوستان میں تھا، پوری آبادی سکھ تھی صرف ان کا ہی ایک گھر مسلم تھا وہ وہاں سے پاکستان آگئے جب وہ میٹرک میں تھے تو والد کے ساتھ اس گاؤں گئے اور وہ گھر بھی دیکھا۔
’سکھ خاندان اس گھر کے دروازے کی چوکھٹ لاہور میں ہمارے گھر لیکر آئے اور کہا کہ یہ آپ کی امانت ہے، اس کو انھوں نے بڑے خیال کے ساتھ رکھا تھا۔ وہ اب بھی ہم سے ملتے رہتے ہیں، جو دل کے رشتے ہوتے ہیں وہ کبھی نہیں ٹوٹتے۔‘
وزیراعظم میاں نواز شریف نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی پر تو کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم شدت پسندی کا شکار بننے والے بھگت کنور رام کے نام سے حیدرآباد میں میڈیکل کمپلیکس اور بابا گرو نانک گردوارے کی تعمیر کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ ہی ان کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔







