باجوڑ ایجنسی دھماکے میں قبائلی مشر ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ طالبان مخالف امن کمیٹی کے سردار پر ہونے والے ایک بم حملے میں قبائلی مشر ہلاک اور ان کے بیٹے سمیت دو افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
باجوڑ کے پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ حملہ منگل کی صبح صدر مقام خار تحصیل کی حدود میں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ طالبان مخالف امن کمیٹی کے ایک اہم قبائلی سردار ملک محمد یونس صبح کے وقت گھر سے نکل کر کہنی جارہے تھے کہ گلاشاہ کے علاقے میں ان کو گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ دھماکے میں قبائلی سردار ہلاک اور ان کے بیٹے سمیت دو افراد زخمی ہوئے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دھماکے میں گاڑی مکمل طورپر تباہ ہوگئی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ مقتول قبائلی سردار کا شمار باجوڑ ایجنسی کے اہم مشران میں ہوتا تھا اور وہ اکثر اوقات شدت پسندوں کی کھل کر مخالفت کرتے رہے ہیں۔
باجوڑ ایجنسی میں گزشتہ چند ہفتوں سے حکومتی حامی قبائلی مشران اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں تیزی دیکھی جارہی ہے۔ ان حملوں کی وجہ سے حکومت کا ساتھ دینے والے قبائلی مشران اور عمائدین میں ایک مرتبہ پھر سے شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔
باجوڑ میں گزشتہ تین دنوں کے دوران کسی قبائلی ملک پر یہ دوسرا حملہ ہے۔ اس سے پہلے اتوار کو ماموند تحصیل کے علاقے میں ایک حکومتی حامی قبائلی ملک کو ہلاک کیاگیا تھا۔
ایجنسی میں پچھلے چند مہنوں کے دوران حکومتی حامی قبائلی مشران اور سکیورٹی اہلکاروں کو ہدف بناکر قتل کرنے کے واقعات بڑھے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ امر بھی اہم ہے کہ باجوڑ ایجنسی میں چند سال پہلے ہونے والی فوجی آپریشنوں کی وجہ سے علاقے کو شدت پسند تنظیموں سے مکمل طورپر صاف کردیا گیا ہے۔
ایجنسی میں اس وقت ایسا کوئی علاقہ نہیں جہاں شدت پسند قابض ہوں تاہم ٹارگٹ کلنگ کے مسلسل بڑھتے جارہے ہیں جس سے عام لوگوں اور حکومتی حامی مشران میں پھر سے خوف و ہراس بڑھتا جارہا ہے۔
ان حملوں کی ذمہ داری وقتاً فوقتاً کالعدم تنظیمیں قبول کرتی رہی ہے۔







