’زلزلے سےمتاثرہ تمام علاقوں تک نہیں پہنچ سکے‘

- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے نے تسلیم کیا ہے کہ امدادی ادارے ابھی تک گذشتہ روز آنے والے زلزلے سے متاثرہ تمام علاقوں تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں کیونکہ متاثرہ علاقہ بہت وسیع اور دشوار گزار ہے اور بہت سی جگہوں پر سڑکیں بھی قابل استعمال نہیں ہیں۔
بی بی سی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے این ڈی ایم اے رکن اور ترجمان احمد کمال نے کہا کہ بہت سے ایسے علاقے یقیناً ہیں جہاں تک سرکاری رسائی نہیں ہو سکی ہے ۔
’میں بہت محتاط ہو کر یہ بات کہوں گا کہ ایسے علاقے بالکل ہیں جہاں ہم پہنچے نہیں ہیں یا ہمارے راڈار پر ہیں، ہم نے ان کو کور کرنا ہے۔‘
انھوں نہ کہا ریسکیو آپریشن ابھی تک جاری ہے اور اس زلزلے سے ہونے والے نقصان کا حتمی جائزہ ابھی تیاری کے مراحل میں ہے۔
احمد کمال نے کہا کہ نقصان کے جائزے کے لیے متاثرہ علاقے کا فضائی جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس کے لیے سیٹلائٹ سے مدد بھی لی جا رہی ہے۔
’جب یہ فضائی جائزہ اور سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر سامنے آ جائیں گی تب ہی ہم اس پوزیشن میں ہوں گے کہ حتمی طور پر اس بات کا تعین کر سکیں کہ اس زلزلے سے ہونے والی تباہی کہاں تک پھیلی ہوئی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں کے لوگوں کے لیے ابتدائی اور فوری ضرورت کی چیزیں ٹینٹ، کمبل اور پینے کا پانی ہے جو بڑی مقدار میں متاثرہ علاقوں کی جانب بھجوایا جا رہا ہے۔
’آنے والے چند روز بہت اہم ہیں کیونکہ محکمہ موسمیات کے مطابق نومبر کی دو یا تین تاریخ تک زلزلے سے متاثر علاقوں میں بارشیں ہو سکتی ہیں۔ ہمیں ان بارشوں سے پہلے پہلے ریسکیو اور ریلیف کا ابتدائی کام مکمل کرنا ہو گا۔‘
انھوں نے بتایا کہ این ڈی ایم اے کے قواعد کے مطابق ہنگامی صورتحال اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ملک کے تمام ایسے علاقوں میں خوراک اور دیگر ضروری سامان کا ذخیرہ رکھا جاتا ہے جہاں زلزلے یا سیلاب آنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
’اسی پالیسی کے تحت متاثرہ علاقوں میں خوراک اور دیگر ضروری سامان کے ذخیرے موجود ہیں اور مزید سامان پہنچایا جا رہا ہے۔‘
این ڈی ایم اے کے رکن نے یہ بھی بتایا کہ ایک پروگرام کے تحت زلزلے اور سیلاب سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے اضلاع میں لوگوں کو بھی اس طرح کی آفات میں محفوظ رہنے کے طریقوں کے بارے میں تربیت دی جاتی ہے۔
احمد کمال کے مطابق زلزلے سے اس بار متاثر ہونے والے بیشتر اضلاع میں یہ تربیتی ورکشاپس منعقد کی جا چکی ہیں۔
’فی الحال تو یہ کہنا مشکل ہے کہ اس حالیہ زلزلے میں ان لوگوں کو دی گئی تربیت سے کوئی فائدہ ہوا کہ نہیں لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ اسی نوعیت کی تربیت سیلاب کے دنوں میں متاثرہ علاقوں میں لوگوں کے بہت کام آئی۔‘







