’زلزلے میں قراقرم ہائی وے 47 جگہوں سے متاثر‘

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کے سربراہ اصغر نواز نے کہا ہے کہ پیر کو پاکستان میں آنے والے زلزلے سے چترال کا علاقہ سب سے زیادہ اس لیے متاثر ہوا کیونکہ یہ ہندوکش، جو زلزلے کا مرکز تھا سے 116 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کے ہمراہ منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ زلزلے کے مرکز کے قریب ہونے کی وجہ سے چترال اور مالاکنڈ کا علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا۔
انھوں نے کہا کہ زلزلے کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس زلزلے میں ہلاک ہونے والوں میں مرد، عورتوں اور بچوں کی تعداد کتنی تھی؟
اصغر نواز نے کہا کہ سنہ 1900 سے لیکر اب تک اس خطے میں 12,880 زلزلے آ چکے ہیں جن میں سے سات یا اس سے زیادہ ریکٹر سکیل پر آنے والے زلزلوں کی تعداد 41 ہے تاہم اس فہرست میں پیر کو آنے والے زلزلے کو شامل نہیں کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پیر کو آنے والے زلزلے سے جانی اور مالی نقصان اس لیے کم ہوا کیونکہ اس کی گہرائی زیادہ تھی جبکہ سنہ 2005 میں آنے والے زلزلے کی گہرائی کم تھی۔
این ڈی ایم اے کے سربراہ نے کہا کہ ایک سے لیکر 70 کلومیٹر کی گہرائی تک آنے والے زلزلے زیادہ تباہی مچاتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پیر کو آنے والے زلزلے میں قراقرم ہائی وے 47 جگہوں سے متاثر ہوئی جس کے بعد فرنٹئیر ورکس آرگنائزیشن نے متاثرہ حصوں کو مرمت کر لیا ہے جس کے بعد اس کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس زلزلے میں متاثرہ اور منہدم ہونے والے مکانات کی تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں اور اس ضمن میں صوبائی محکموں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ان سے بھی معلومات بھی حاصل کی جا رہی ہیں
اصغر نواز کا کہنا تھا کہ زلزلے سے متاثر ہونے والے علاقوں میں فوجی کی میڈیکل اور امدای ٹیمیں روانہ کردی گئی ہیں جبکہ ان علاقوں میں راشن بھی پہنچایا جا رہا ہے۔







