شدید زلزلے کے جھٹکے افغانستان، پاکستان اور بھارت تک محسوس کیے گئے۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے شہر لاہور میں شدید زلزلہ آنے کے بعد لوگ اپنے دفتروں سے باہر بھاگ آئے اور خوف زدہ ہو کر دعائیں مانگ رہے تھے
،تصویر کا کیپشنبھارت کے زیر انتظام کشمیر کے شہر سرینگر میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے لوگ عمارتوں سے باہر نکل کر سڑکوں پر کھڑے دکھائی دیے
،تصویر کا کیپشنامریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پاکستان کے مختلف علاقوں میں ریکٹر سکیل پر 7.7 شدت کا زلزلہ آیا ہے
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے سے مجموعی طور پر ملک بھر میں 160 سے زیادہ افراد ہلاک اور 1000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنحکام کا کہنا ہے کہ زلزلے سے سب سے زیادہ نقصان خیبر پختونخوا کے مالاکنڈ ڈویژن میں ہوا ہے۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے صوبے پنجاب کے ریسکیو ذرائع کے مطابق صوبے میں زلزلے کے نتیجے میں ایک ہلاکت اور 14 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنصوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی پرویز خٹک نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
،تصویر کا کیپشنبی بی سی کے پشاور میں نامہ نگار کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مکانات کے نقصان اور منہدم ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے صوبے گلگت بلتسان کے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ ہنزہ اور نگر کے علاقے میں زلزلے کے بعد مٹی کے تودے گرے ہیں۔ابھی تک ایک بچی کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ علاقے کا جائزہ لینے کے لیے فوج کی ہیلی کاپٹر منگوائے جا رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنبھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کو فون کیا ہے اور زلزلے میں ہونے والے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ مسٹر مودی نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ نواز شریف سے ٹیلفونک بات چیت میں انھوں نے زلزلے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور بھارت نے پاکستان کو ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی ہے۔
،تصویر کا کیپشنقبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں 16 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ خیبر ایجنسی اور مہمند میں ایک ایک ہلاک ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنوزارت پانی و بجلی نے تصدیق کی ہے کہ ملک میں پانی کے تمام ذخائر اور پن بجلی پیدا کرنے والے یونٹس زلزلے کے اثرات سے محفوظ رہے ہیں اور معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنگلگت بلتستان کے شہر چلاس سے صحافی شہاب الدین غوری کے مطابق، داریل اور تانگیر میں مکانات گرنے سے ایک بچے سمیت دو افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔ چلاس اور گلگت کے درمیان پہاڑی تودے گرنے کے باعث شاہراہِ قراقرام تین مختلف مقامات سے بند ہو گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے زلزلہ پیما مرکز کا کہنا ہے کہ زلزلہ پاکستانی وقت کے مطابق 2:09 منٹ پر آیا۔ زلزلے کی وجہ سے مختلف علاقوں میں کچے مکانات منہدوم ہو گئے ہیں۔