’زمین تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
- مصنف, طاہر عمران
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید زلزلے کے بعد سوشل میڈیا پر لوگوں کے کمنٹس کے ساتھ جذبات کے اظہار کا سلسلہ جاری ہے۔
اس کے علاوہ امریکی جیولاجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا نیا مرکز القادریہ کیران و مرجان ہے جہاں اس کی شدت سات اعشاریہ پانچ تھی۔
پاکستانی افواج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ فوج کو کسی قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کسی احکامات کے بغیر تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اگر آپ کے علاقے میں بھی زلزلے سے تباہی یا نقصان ہوا ہے تو بی بی سی اردو کے فیس بُک پیج پر یا ٹوئٹر پر ہمیں اپنی تصاویر، ویڈیوز اور تاثرات بھجوائیں۔

،تصویر کا ذریعہSadiq Saaqi
ضلع دیر میں کام کرنے والے سماجی کارکن وسیم حیدر نے یہ تصاویر بھجوائیں۔

،تصویر کا ذریعہWaseem Haider

،تصویر کا ذریعہWaseem Haider
ہمیں یہ تصویر مردان سے حبیب خان نے بھجوائی۔

،تصویر کا ذریعہHabib Khan
وسیم حیدر نے ضلع اپر دیر اپر دیرضلع کے واڑی رورل ہیلتھ سینٹر ڈسٹرکٹ سے وسیم حیدر نے فون کر کے بتایا کہ اس ہیلتھ سینٹر میں درجنوں زخمی افراد لائے گئے ہیں جن میں سے دو کی ہلاکت ہوئی ہے۔
افغانستان کے طلوع نیوز کی ٹویٹ کے مطابق ’محکمۂ صحت کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ زلزلے کے نتیجے میں افغانستان میں کم از کم 13 افراد ہلاک اور 63 زخمی ہوئے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی کی ٹویٹ کے جواب میں پاکستان بھر سے لوگوں نے اپنے شہروں کے نام لکھ کر بھجوائے جن میں چنیوٹ، ملتان، جوہرآباد، گوجرانوالا، کوہاٹ، لوئر دیر، میانوالی، خانیوال، بٹگرام اور چترال کے علاقے شامل ہیں۔
ڈومنیک مینارڈ نے ٹویٹ کی کہ ’امید ہے کہ اس زلزلے نے دنیا کو اتنا ہلایا ہو گا کہ لوگ سمجھ سکیں کہ انہیں ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔‘سید علی عباس نے ٹویٹ کی کہ’ہمارے ایف الیون کے صغری ٹاور میں واقع دفتر میں دراڑیں نظر آییں۔ دفتر خالی کر لیا گیا۔ غیر محفوظ عمارتوں میں مت رکیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
بی بی سی کے کابل میں نامہ نگار سید انور نے ٹویٹ کی کہ ’افغانستان کے صوبہ ننگر ہار میں محکۂ صحت کے حکام کے مطابق 8 افراد ہلاک اور 72 زخمی ہوئے ہیں۔‘
خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کے سپیکر نے اپنے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے دورے کی تصویر ٹویٹ کی۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے ٹویٹ کی گئی کہ ’وی آئی پی حضرات ہسپتالوں کا رخ نہ کریں جبکہ میڈیا سے درخواست ہے کہ وہ ہسپتالوں میں جمع نہ ہوں۔‘
افغانستان سے وال سٹریٹ جنرل کے نمائندے حبیب خان طوطاخیل نے ٹویٹ کی کہ’تخار صوبے میں مقامی محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق زلزلے کے نتیجے مںی مچنے والی بھگدڑ کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک ہو گئے جوکہ 39 زخمی ہیں۔‘
پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ٹویٹ کی کہ ’خوفناک زلزلہ۔ اپنے عوام کے لیے دعائیں خصوصاً پہاڑی تودوں کے گرنے سے متاثرہ شمالی علاقہ جات کے لوگوں کے لیے۔ خیبر پختونخوا حکومت ہنگامی حالت میں ہے۔‘
بی بی سی اردو کے فیس بُک پیج پر میانوالی سے محمد رفیق نے لکھا ’میری زندگی میں اس سے لمبا زلزہ نہیں آیا۔ زمین رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ میانوالی ضلع کا ھیڈ کواٹر بلوخیل روڈ جہاں زیادہ تر ہسپتال، دکانیں اور دفاتر کے علاوہ ٹرانسپوٹ کا سب سے ذیادہ رش ہوتا ہے۔ خوف سے سب لوگ اپنے اپنے کام چھوڑ کر روڈ پر آ گئے اور دور دور تک لوگ ہی لوگ نظر ٓا رہے تھے ہر ٓادمی خوفزدہ تھا‘۔
اسلام آباد سے عبدالعلیم نے بی بی سی اردو کے فیس بُک پیج پر لکھا ’میں اسلام آباد میں ایک پیٹرول پمپ پر موٹرسائیکل میں پیٹرول ڈلوانے کے لیے رکا تھا جب ہر طرف سے چیزیں ہلنا شروع ہوگئیں حتیٰ کہ مجھے محسوس ہوا جیسے کوئی موٹر سائکل کو دھکا لگا رہا ہو۔ آناًفاناً ہرطرف افراتفری کا عالم تھا 2005 کے زلزلے کے بعد یہ میری زندگی کے بدترین تجربات میں سے تھا۔‘
جنوبی پنجاب کے ضلع لیہ سے انجم فاروق نے لکھا کہ ’آج ضلع لیہ میں بھی زلزلے کے اچھے خاصے جھٹکے محسوس کیے گۓ، میں اس وقت ایک پرائیویٹ سکول میں بچوں کو پڑھا رہا تھا کہ اچانک کرسی حرکت کرنے لگی میں نے فورا بچوں کو عمارت سے باہر نکال کر زمین پر بیٹھا دیا اس کے بعد کافی دیر تک سر چکراتا رہا۔‘
ابراہیم شفقت نے گوجرانوالا سے لکھا کہ ’بالکل ہمارے علاقے گوجرانوالہ سٹی میں نا صرف جھٹکے محسوس کئے گئے بلکہ ایک منٹ سے زیادہ دیر تک خوفناک قسم کا زلزلہ جاری رہا۔ جسکی وجہ سے کاروبار زندگی تھوڑی دیر کے لیے رک گیا. اور ہر طرف کلمہ اور استغفر اللّہ کی پکاریں سنائی دیتی رہیں۔‘
لاہور سے شاہد سیال نے لکھا ’میری زندگی کا شدید ترین زلزلہ تھا۔‘
ہمارے ٹوئٹر کا پتہ ہے: https://twitter.com/BBCUrdu
ہمارے فیس بُک کا پتہ ہے: https://business.facebook.com/bbcurdu?business_id=885526334799827







