سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی سزائے موت برقرار

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی سپریم کورٹ نےگورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے میں موت کی سزا پانے والے ممتاز قادری کی طرف سے اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی کی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

بدھ کو اسلام آباد میں جسٹس آصف سیعد کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے مجرم ممتاز قادری کی سزا کو انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت برقرار رکھنے کا کہا ہے۔

مجرم کے وکیل اور لاہور ہائی کورٹ کےسابق چیف جسٹس خواجہ محمد شریف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل نہیں کریں گے۔

چار جنوری 2011 کو سلمان تاثیر کی حفاظت پر مامور ممتاز قادری نےگولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنچار جنوری 2011 کو سلمان تاثیر کی حفاظت پر مامور ممتاز قادری نےگولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ مجرم کے پاس اس فیصلے کے خلاف ریویو فائل کرنے کے لیے تیس دن کا وقت ہے۔ اگر اُنھوں نے ریویو کی درخواست دائر نہ کی تو پھر ممتاز قادری کے پاس صدر مملکت کو رحم کی اپیل کرنے کا قانونی حق باقی رہ جائے گا۔

ممتاز قادری کی درخواست کی سماعت کے دوران مجرم کے وکیل جسٹس ریٹائرڈ میاں نذیر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اُن کے موکل نے گورنر سلمان تاثیر کے قتل کے واقع سے پہلے ایک دینی اجمتاع میں شرکت کی تھی جس میں توہین مذہب کی مخالفت کرنے پر گورنر پنجاب کو تنقید کا نشانہ بنایاگیا تھا اور اس کے بعد ممتاز قادری نے سلمان تاثیر کو قتل کرنے کی ٹھان لی تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ پولیس کو دیےجانے والے بیان میں اُن وجوہات کا ذکر کیا ہے جس کی وجہ سے اُنھوں نے گورنر پنجاب کو قتل کیا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہر شخص اپنے عمل کو جائز قرار دیتا ہے تو پھر بہتر ہوگا کہ تعزیرات پاکستان کو ختم کر دیا جائے۔ اُنھوں نے کہا کہ پاگل شخص کو اپنے عمل کو جائز قرار دیتا ہے تو کیا معاشرہ اس بات کو تسلیم کر لےگا۔

مجرم کے وکیل نے کہا کہ اُن کے موکل نے پیغمبر اسلام کے عشق میں یہ کام کیا ہے اور اسلامی تاریخ کی روح اس سے عمل کو جائز قرار دیا گیا ہے۔

عدالت نے مجرم ممتاز قادری کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزا کو برقرار رکھنے کا حکم دیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنعدالت نے مجرم ممتاز قادری کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزا کو برقرار رکھنے کا حکم دیا

مقدمے کی سماعت کے موقع پر سپریم کورٹ اور ریڈ زون میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیےگئے تھے اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو اس علاقے میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

ممتاز قادری کی درخواست مسترد ہونے کے بعد اُن کے حامی وکلا ایک دوسرے کے گلے لگ کر روتے رہے اور ایک دوسرے کو تسلیاں دیتے رہے۔

ممتاز قادری کا تعلق پنجاب پولیس کی ایلیٹ فورس سے تھا اور وہ سلمان تاثیر کی ذاتی سکیورٹی پر تعینات تھے۔ چار جنوری سنہ 2011 میں مجرم نے گورنر پنجاب کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔