اور اب مسجد راحیل شریف

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
دنیا میں مساجد کا نام شخصیات کے نام پر رکھنا معمول کی بات ہے جس کا عمومی مقصد عقیدت کا اظہار یا خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔
سب سے زیادہ مساجد خلفائے راشدین اور اہلِ بیت سے معنون ہیں۔ اس کے بعد تابعین اور اولیا کے نام پر اور پھر دیگر تاریخی شخصیات، واقعات، برادری اور جگہوں کے نام پر عبادت گاہیں اور مدارس پائے جاتے ہیں، مثلاً بیت المقدس کی مسجدِ عمر فاروق، استنبول کی مسجدِ سلیمانیہ، شاہجہانی مسجد ٹھٹھہ، اسلام آباد کی فیصل مسجد، بابری مسجد ایودھیا، مسجدِ شب بھر لاہور، میمن مسجد کراچی وغیرہ وغیرہ۔
کئی مخیر حضرات اپنے کسی خاندانی بزرگ کے نام پر بھی عبادت گاہ کا نام رکھ لیتے ہیں، غرض بے شمار ناموں کی مساجد اور دیگر عبادت گاہیں ہر طرف پھیلی ہیں۔
مگر خبر تب بنتی ہے جب کسی ایسے نام پر عبادت گاہ کا نام رکھ دیا جائے جس کا بظاہر مقصد تو اسں شخصیت کو سراہنا ہو لیکن پوشیدہ مقصد ذاتی، مذہبی یا سیاسی مقاصد کا حصول ہو یا پھر کسی کی نگاہوں میں آ کر خوشنودی حاصل کرنا ہو۔
اسلام آباد ایکسپریس وے میں شکریال کے قریب گرین بیلٹ پر ضیا مسجد برسوں سے قائم ہے۔ روایت ہے کہ ایک بار جنرل ضیا الحق نے اس مقام پر نماز ادا کی اس کے بعد ان کے پرستاروں نے گرین بیلٹ پر ہی ان کے نام کی مسجد بنا دی۔
جنرل محمد ضیا الحق شہید مسجد سری نگر کے علاقے نواکدل میں بھی قائم ہے اس کا پرانا نام غنی مسجد تھا لیکن سنہ 1993 میں حزبِ المجاہدین کی حامی انتظامیہ نے اس کا نام بدل دیا۔
اسلام آباد کی لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز مسجد کی لائبریری اسامہ بن لادن کو پہلے ہی معنون کر چکے ہیں۔
گذشتہ سال اسلام آباد ایکسپریس وے پر قائم غوری ٹاؤن رہائشی سکیم میں دس مرلے کے ایک پلاٹ پر سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کے نام پر مسجد بنائی گئی۔ مسجد کے امام محمد اشفاق صابری کے مطابق یہ پلاٹ علاقے کے ’معروف لینڈ ڈویلپر‘ تاجی کھوکھر نے عطیہ کیا اور اس کا مقصد ممتاز قادری کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے جس نے ایک ’شاتمِ رسول‘ کو سبق سکھایا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی غوری ٹاؤن سے متصل علاقے میں گذشتہ ہفتے تحریکِ نجاتِ قبضہ مافیا نامی مقامی تنظیم کے سربراہ صفدر کھوکھر نے اپنے دو کنال کے خاندانی پلاٹ پر جامع مسجد راحیل شریف اور مدرسے کے قیام کا اعلان کیا۔
یہ مسجد ڈیڑھ برس میں مکمل ہو گی مگر ایک عارضی کمرے میں نمازِ باجماعت شروع کروا دی گئی ہے۔
صفدر کھوکھر کا خاندان تاجی کھوکھر گروپ کا مخالف ہے اور اسے امید ہے کہ جس طرح جنرل راحیل نے کراچی کو ’قبضہ مافیا‘ سے نجات دلائی اسی طرح اسلام آباد کو بھی ’لینڈ مافیا‘سے نجات دلائیں گے۔
تاہم ممتاز لینڈ ڈویلپر تاجی کھوکھر کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ مسجد جیسے مقام کو ذاتی و سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا قابلِ مذمت ہے۔
اسی دوران یہ خبر بھی آ گئی کہ راولپنڈی کے علاقے صدر کے نزدیک قائم مسجدِ غوثیہ اب غازی حمید گل غوثیہ مسجد ہوچکی ہے۔ نام کی یہ تبدیلی اسلام اور پاکستان کی سربلندی کے لیے جنرل صاحب کی شاندار خدمات کے اعتراف میں کی گئی۔
ذوالفقار علی بھٹو نے شریعت سے متصادم قوانین کو کالعدم کرنے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل قائم کی، احمدیوں کو کافر قرار دیا، مسلم امہ کے اتحاد کے لیے اسلامی کانفرنس منعقد کی، جمعے کی چھٹی شروع کی اور شراب کی فروخت پر پابندی لگائی لیکن وہ اس قابل نہیں تھے کہ کہیں بھی مسجدِ بھٹو بن سکتی۔
کاش محمد علی جناح نے پاکستان بنانے کے علاوہ بھی اسلام اور پاکستان کی سربلندی کے لیے کوئی ایسا کام کیا ہوتا کہ ان کے نام پر اس ملک کے کسی کونے کھدرے میں کوئی چھوٹی سی مسجد جناح بنا دی جاتی۔
(ابھی ابھی میرے دل میں خیال آیا کہ اس حوالے سے اہلیانِ راولپنڈی و اسلام آباد سے مطالبہ کروں، مگر ان پر مزید دباؤ ڈالنا مناسب نہیں کیونکہ وہ پہلے ہی شاہ فیصل، ضیاالحق، ممتاز قادری، حمیدگل اور راحیل شریف کے نام سے مساجد بنا چکےتو انھیں اور کیا زیرِ بار کرنا، اب تو کسی اور علاقے کے لوگ ہمت کریں تو کریں۔)







