علاج بذریعہ گفتگو !

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
193 ارکان پر مشتمل اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 17 اجلاس اس اعتبار سے تاریخی ہے کہ اس میں نہ صرف سب سے زیادہ سربراہانِ مملکت و حکومت شریک ہیں بلکہ انھوں نے اگلے 15 برس کے لئے سات نکاتی عالمی ترقیاتی ایجنڈے کی بھی متفقہ منظوری دی ہے۔
اس ایجنڈے کے تحت 2030 تک دنیا سے انتہائی غربت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ سب کو معیاری تعلیم، صاف پانی، صفائی ستھرائی، توانائی کی قابلِ اعتماد ترسیل، محفوظ ماحول اور ملکی و بین الاقوامی عدم مساوات میں کمی میسر آئے گی اور اقتصادی ثمرات کا پھیلاؤ اور اچھی حکومت کا فروغ بھی عام ہوجائے گا۔
مگر اس عالمی خواب کی تکمیل کے لئے اگلے 15 برس میں ساڑھے تین سے پانچ کھرب ڈالر سالانہ درکار ہیں ۔15 برس میں یہ 50 سے 75 کھرب ڈالر کہاں سے آئیں گے؟ اس بارے میں فی الحال کوئی بات نہیں ہو رہی۔ اسی لیے بل گیٹس جیسی عملیت پسند شخصیات اس منصوبے پر عمل درآمد کے امکانات کے بارے میں گومگو کے درخت سے لٹکی ہوئی ہیں۔
اسی جنرل اسمبلی نے اب سے 15 برس پہلے اتنی ہی دھوم دھام سے ایسے ہی ایک آٹھ نکاتی منصوبے کی منظوری دی تھی۔ مگر آٹھ میں سے صرف ایک ہدف ہی حاصل ہوسکا یعنی انتہائی غربت کی شرح میں 50 فیصد کمی اور یہ ہدف بھی اس لئے حاصل ہوا کیونکہ چین میں پچھلے 15 برس کے دوران غربت میں خاصی کمی آئی۔ جبکہ دنیا کی آدھی آبادی کو صاف پانی کی فراہمی کا ہدف بمشکل نصف طور پر حاصل ہو پایا۔ گویا آٹھ میں سے ڈیڑھ اہداف میں کامیابی کے باوجود اگلے 15 سال کے لئے زیادہ بڑے ٹارگٹ سامنے آ گئے ہیں۔
مگر اس بار سویڈن نے بہت جوش سے اعلان کیا ہے کہ نو عالمی رہنماؤں کا ایک گروپ نگرانی کرے گا کہ اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک یہ اہداف حاصل کرنے کے لیے کتنے سنجیدہ ہیں۔ اس گروپ میں جرمن چانسلر آنگیلا میرکل کے علاوہ برازیل، کولمبیا، لائبیریا، جنوبی افریقہ، تنزانیہ اور تیونس کے صدور اور سویڈن و مشرقی تیمور کے وزرائے اعظم شامل ہوں گے۔ ( تو کیا یہ نو کے نو قابلِ احترام لوگ اگلے 15 برس بھی اقتدار میں رہیں گے ؟‘

،تصویر کا ذریعہAFP
مشکل یہ ہے کہ گذشتہ 15 برس کی طرح اگلے 15 برس کے بڑے بڑے اہداف کی تکمیل بھی لازمی نہیں رضاکارانہ ہے اس لئے بیشتر حکومتیں انھیں سنجیدگی سے نہیں لیتیں۔ پھر بھی غنیمت ہے کہ ریاستوں میں اب تک یہ احساس باقی ہے کہ اس کرہِ ارض پر کچھ تو ہے جو غلط ہو رہا ہے اور اسے ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے ورنہ جس شاخ پر دنیا بیٹھی ہے ایک دن وہی شاخ گر جائے گی۔گڑ نہ سہی گڑ سی بات سہی۔۔۔۔
ویسے کرہِ ارض کو پرامن و خوشحال بنانے میں بنیادی رکاوٹ ہے کیا ؟ اس بارے میں جنرل اسمبلی سے پوپ فرانسس کے خطاب پر دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول،
’طاقت اور دولت جمع کرنے کی بے مہار ہوس کے ہاتھوں قدرتی وسائل کی بری طرح سے پامالی کمزور طبقات کو مسلسل کونے میں دھکیل رہی ہے ۔ ماحولیاتی بربادی انسانی بقا کے لئے اب ایٹمی ہتھیاروں سے بھی بڑا خطرہ ہے۔ ریاستیں اپنے لوگوں کو چھت، روزگار اور زمین ہی دے دیں تو بڑی بات ہوگی۔ مساوات کا خواب تب تک پورا نہیں ہوسکتا جب تک عالمی ساہوکار ادارے کرپشن سے پاک پائیدار ترقی میں مدد کرنے کے بجائے قرضوں کے موجودہ استحصالی نظام سے چمٹے رہیں گے۔ ایسا ہوئے بغیر غربت، کمزور طبقات کی لاچاری اور محتاجی کم نہ ہوگی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سب سے بڑے عالمی فورم پر کھڑے ہو کر پوپ فرانسس کی اس تشخیص کے بعد اور کہنے کو بچا ہی کیا ہے ؟







