کیا ہمارا سکول بند ہے؟

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں برسراقتدار جماعت پاکستان تحریک انصاف کی حکومت دیگر شعبوں کے مقابلے میں تعلیم پر سب سے زیادہ بجٹ خرچ کررہی ہے لیکن قوت سماعت و گویائی سے محروم ، ذہنی اور جسمانی طورپر معذور بچوں کےلیے پرائمری سے آگے تعلیم کے مواقع انتہائی کم ہیں جسکی وجہ سے ہر سال سینکڑوں بے زبان بچے تعلیم کے بنیادی حق سے محروم رہ جاتے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں گونگے، بہرے اور جسمانی و ذہنی طورپر معذور بچوں کے حقوق کےلیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ صوبہ بھر میں خصوصی بچوں کےلیے گنتی کے چند تعلیمی ادارے قائم ہیں جبکہ ہر سال خصوصی بچوں کی تعداد تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے۔
پاکستان ایسوسی ایشن آف بلائنڈ خیبر پختونخوا کے صدر ساعد نور نے بی بی سی کو بتایا کہ پورے صوبے میں آنکھوں سے محروم بچوں اور بچیوں کےلیے صرف دس تعلیمی ادارے کام کررہے ہیں جن میں صرف پانچویں جماعت تک تعلیم دی جاتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ قوت سماعت اور گویائی اور آنکھوں کی نعمت سے محروم بچیوں کے لئے پورے صوبے میں صرف دو سرکاری سکول قائم کئے گئے ہیں جہاں صرف پرائمری لیول تک تعلیم دی جاتی ہے۔‘
ساعد نور کے مطابق ’ خصوصی بچوں کو معاشرے میں ویسے ہی زیادہ توجہ نہیں دی جاتی ایسے میں اگر حکومت کی طرف سے ان کو تعلیم کے مواقع بھی میسر نہ ہوں تو ایسے بچے کیسے اپنے پاؤں پر کھڑے ہونگے۔‘
انھوں نے کہا کہ تین سال پہلے اقوام متحدہ کے ادارے ڈبلیو ایچ او کی جانب سے ایک رپورٹ شائع کی گئی تھی جس میں پاکستان بھر میں آنکھوں سے محروم افراد کی تعداد چار لاکھ سے زائد بتائی گئی تھی جس میں چار ہزار افراد خیبر پختونخوا سے تھے۔
خصوصی بچوں کی بہبود کےلیے سرگرم خیبر پختونخوا حکومت کا ادارہ سوشل ویلفیئر اینڈ ویمن ڈویلپمنٹ کی ویب سائیڈ سے لی گئی معلومات کے مطابق صوبے میں خصوصی بچوں کے کل 39 تعلیمی ادارے قائم ہیں جن میں 11 ادارے آنکھوں سے محروم بچوں کےلیے، 14 ادارے قوت سماعت اور گویائی سے محرم بچوں اور 14 سکول ذہنی اور جسمانی طورپر معذور بچوں کےلیے بنائے گئے ہیں۔

یہ تعلیمی ادارے صرف آٹھ اضلاع تک محددو ہیں جن میں پشاور، کوہاٹ، ڈیرہ اسمعیل خان، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، بنوں اور دیر شامل ہیں جبکہ صوبے کے دیگر 18 اضلاع میں ان کا کوئی وجود ہی نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان میں بیشتر تعلیمی اداروں میں معذور بچوں کو صرف پرائمری سطح تک تعلیم دی جاتی ہے جبکہ ہائی لیول تک سکولوں کی تعداد انتہائی کم بتائی جاتی ہے۔ قوت سماعت اور گویائی سے محروم چند طلبہ نے حال ہی میں سماجی رابطے کے ویب سائیڈز پر ایک مہم کا اغاز کیا ہے جس میں وہ اپنے لئے تعلیم کی بنیادی حق کا مطالبہ کررہے ہیں۔
حکومتی رویے سے مایوس یہ بچے بول بھی نہیں سکتے لیکن پھر بھی انھوں نے حوصلہ نہیں ہارا اور اب وہ سوشل میڈیا کے ذریعے سے دنیا کو اپنا پیغام پہنچا رہے ہیں۔
ان طلبہ میں ضلع لوئر دیر کے علاقے تیمر گردہ سے تعلق رکھنے تین بہن بھائی سونیا خان، حسن خان اور فیصل خان قابل ذکر ہیں جو پچھلے چھ ماہ سے ٹویٹر پر مہم چلارہے ہیں۔ 13 سالہ سونیا خان نے چھ ماہ پہلے چھٹی جماعت پاس کی اور اب وہ ساتویں جماعت کی طالبہ ہیں لیکن چونکہ ان کے گاؤں میں پرائمری سے آگے خصوصی بچوں کےلئے کوئی سکول موجود نہیں لہذا اب وہ زیادہ تر وقت گھر پر ہی گزارتی ہیں۔ سونیا خان نے حال ہی میں ٹویٹر پر اپنی ایک تصویر جاری کی ہے جس میں انھوں نے ہاتھ میں ایک بینر تھاما ہوا ہے جس پر لکھا ہے ’ میرا نام سونیا خان ہے میں قوت گویائی و سماعت سے محروم بچی ہوں، کیا تعلیم حاصل کرنا میرا حق نہیں۔‘
سونیا کے والد امیر زاد گل نے بی بی سی کو بتایا کہ قوت سماعت و گویائی سے محروم ان کے تینوں بچے روزانہ ان سے اشاروں کی زبان میں پوچھتے ہیں کہ وہ کب سکول جائیں گے، کیا ان کا سکول ابھی تک بند ہے۔
ایبٹ آباد میں خصوصی اور نارمل بچوں کےلیے قائم ادارے گنگسٹن سکول فار انکلوسئیو کے سربراہ سردار عرفان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں خصوصی بچوں کا کوئی تعلیمی بورڈ نہیں اور نہ ان کےلیے پرائمری سے آگے تعلیم کے باقاعدہ سہولیات موجود ہیں۔
انھوں نے کہا کہ صو بائی حکومت تعلیم پر سب سے زیادہ بجٹ تو خرچ کر رہی ہے لیکن خصوصی بچوں کی تعلیم کو مکمل طورپر نظر انداز کیا ہوا ہے اور ہر حکومت میں بے زبان بچوں کو ان کے بنیادی حق سے محروم رکھا گیا ہے۔
اس سلسلے میں صوبائی حکومت کا موقف معلوم کرنے کے لیے سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمینٹ کی مشیر ڈاکٹر مہر تاج روغانی اور دیگر اعلی اہلکاروں سے بار بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ہوسکی۔







