’بلوچستان بکروں جتنی کوریج کا تو حقدار‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی، کوئٹہ
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا کو بلوچستان کو نظرانداز کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اتوار کو کوئٹہ کے علاقے سریاب میں ایک جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جتنی کوریج بکروں ، بیلوں اور گدھوں کو دی جا رہی ہے کم ازکم اتنی کوریج تو بلوچستان کے مسائل کو بھی دی جائے۔
اختر مینگل نے ان شکایات کا برملا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی اور ان کی پارٹی کے رہنما ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی کی شکلیں ’اداکارہ وینا اور اداکارہ میرا جیسی نہیں تو کم از کم بکروں ، بیلوں اور گدھوں سے زیادہ بدصورت بھی تو نہیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ جتنی کوریج ٹیلی ویژن پر بکروں ، بیلوں اور گدھوں کو دی جاتی ہے کم از کم اتنی کوریج کا بلوچستان کے لوگوں اور مسائل کا بھی حق بنتا ہے۔
خیال رہے کہ آج کل پاکستانی نیوز چینلز پر عید الاضحی کی مناسبت سے خبریں اور رپورٹس نشر کی جا رہی ہیں۔
اختر مینگل نے کہا کہ ’اگر میڈیا والے ہمیں نہیں دکھا سکتے تو کم از کم وہ لاشیں تو دکھا سکتے ہیں جن کے چیتھڑے اڑ رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’کم از کم خضدار کے علاقے توتک سے دریافت ہونے والی اجتماعی قبروں تو دکھایا جائے اور حکمرانوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ ان لوگوں کو کس نے مارا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ کم از کم ان خواتین کو تو دکھایا جائے جو جبری طور پر لاپتہ کیے جانے والے اپنے پیاروں کے لیے احتجاج کر رہی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بلوچستان میں نہ صرف قوم پرست جماعتوں بلکہ دیگر جماعتوں کو بھی یہ شکایت ہے کہ پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا میں نہ ان کی سرگرمیوں اور نہ ہی صوبے کے مسائل کو مناسب کوریج دی جاتی ہے۔







