اسلام آباد میں رینجرز کی کارروائی، خودکش حملہ آور سمیت 65 گرفتار

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک کارروائی کے دوران بڑی تعداد میں اسلحہ اور بارودی مواد قبضے میں لیا اور دو خودکش حملہ آوروں سمیت 65 افراد کو حراست میں لینے کے بعد انھیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
سنیچر کو علی الصبح حساس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے دارالحکومت کے نواحی علاقے ترنول میں سرچ آپریشن کر دوران مشکوک افراد کے خلاف کارروائی کی۔
مقامی پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 10 شدت پسند بھی شامل ہیں جن میں دو خودکش حملہ آور ہیں۔اس کارروائی میں گرفتار ہونے والے افراد کا تعلق قبائلی علاقوں سے ہے جبکہ 15 افغانی شہریوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ سرچ آپریشن حساس اداروں کی رپورٹ کی روشنی میں کیا گیا ہے۔
وزارت داخلہ کو بھیجی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں بالخصوص شوال میں مسلح افواج کی شدت پسندوں کے خلاف زمینی کارروائیوں کے بعد ایک خاصی بڑی تعداد میں شدت پسند ملک کے مختلف علاقوں میں چلے گئے ہیں۔ جن میں سے قابل ذکر تعداد اسلام آباد کے نواحی علاقوں میں بھی آگئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا تھا کہ یہ افراد ملک کے مختلف علاقوں میں رہنے والے اپنے رشتہ داروں کے علاوہ ایسے افراد کے گھروں میں بھی رہائش پذیر ہیں جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ متعدد کالعدم تنظیموں کے سہولت کار بھی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق اس رپورٹ میں میں کہا گیا تھا کہ شدت پسندوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کا بدلہ لینے کے لیے یہ افراد حساس مقامات کے علاوہ اہم شخصیات کو بھی نشانہ بناسکتے ہیں۔
صدر سرکل کے سب ڈویژنل پولیس آفیسر ادریس راٹھور نے بی بی سی کو بتایا کہ حراست میں لیے جانے والے افراد میں سے زیادہ تر لوگوں کو تحقیقات کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ حراست میں لیے جانے والے50 افراد میں کا تعلق وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے ہے جبکہ 15 افغانیوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
ادریس راٹھور کے مطابق سرچ آپریشن کے دوران جو دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا ہے وہ انتہائی اعلی کوالٹی کا ہے جس کے استعمال سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوسکتی تھی۔
اُنھوں نے کہا کہ یہ دھاکہ خیز مواد اُس مواد سے مختلف ہے جو ترنول کے علاقے میں پہاڑوں میں بلاسٹنگ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
ایس ڈی پی او کے مطابق پولیس نے اُن افراد کو بھی حراست میں لے لیا ہے جن کے گھروں میں ملزمان قیام پذیر تھے۔ اُنھوں نے کہا کہ دھماکہ خیز مواد کے علاوہ سینکڑوں ڈیٹونیٹرز اور 30 کلاشنکوف رائفلیں بھی برآمد کی گئی ہیں۔
اس سرچ آپریشن کے دوران رینجرز کے اہلکار پیش پیش تھے جبکہ پولیس کے چند اہلکار رینجرز کے اہلکاروں کے ساتھ تھے جنہیں اس علاقے کے بارے میں معلومات تھیں۔







